لاہور چیمبر میں انڈسٹری-اکیڈمیا روابط کے فروغ کیلئے پروگرام کا انعقاد

جمعرات 30 اپریل 2026 23:05

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 اپریل2026ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے‘‘ایک دن، ایک یونیورسٹی’’پروگرام کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں کاروباری برادری، تعلیمی اداروں اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس اقدام کا مقصد طلباء کی صلاحیتوں کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اور روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔

تقریب میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے مشترکہ طور پر یونیورسٹی طلباء کے پراجیکٹس پر مشتمل ایگزیبیشن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان، پرو ریکٹر یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب ڈاکٹر حماد نوید سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین منظور حسین جعفری، محسن بشیر، عمر سرفراز، وقاص اسلم، رانا محمد نثار، اور کنوینئر عمر سلیم بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

تقریب کے دوران شرکاء نے مختلف جامعات کے طلباء کی جانب سے تیار کردہ جدید اور تخلیقی پراجیکٹس میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ وزیر تعلیم نے طلباء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ لاہور چیمبر نے رواں سال کو انڈسٹری-اکیڈمیا لنکج کا سال قرار دیا ہے کیونکہ ملکی ترقی کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے تاہم انہیں مؤثر رہنمائی، تربیت اور ہینڈ ہولڈنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نوجوانوں کی افادیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور معیشت کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لاہور چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ اسکل سیٹ کی اہمیت بڑھ چکی ہے اور آج کی معیشت میں وہی نوجوان کامیاب ہوگا جو جدید مہارتوں سے لیس ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت نے 57 ایسے شعبہ جات کی نشاندہی کی ہے جن میں 2050 تک روزگار کے وسیع مواقع موجود ہوں گے اور اسی تناظر میں طلباء کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت رواں سال ایک ملین سے زائد نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا ہدف رکھتی ہے جبکہ پہلی بار سکل ڈیویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹس میں مسلسل اضافہ خوش آئند ہے تاہم پاکستانی فری لانسرز کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مہارتوں میں مزید بہتری لانا ہوگی۔رانا سکندر حیات نے مزید بتایا کہ طلباء کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپ فراہم کیے جا رہے ہیں اور پہلی بار پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے طلباء کو بھی اس پروگرام اور اسکالرشپس میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے 2026 کو‘‘یوتھ کا سال’’قرار دیا ہے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں تین جدید لیبز کے قیام کا منصوبہ ہے جہاں طلباء کو انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے گی۔اپنے خطاب میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے بجائے انٹرپرینیورشپ کی طرف بھی راغب کیا جائے تاکہ وہ خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور نوجوان اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ تھیوری اور پریکٹیکل کے درمیان فرق کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب انوویشن کے تحت بڑے پیمانے پر ایگزیبیشن منعقد کی جا رہی ہے جس میں 1500 سے زائد انٹریز متوقع ہیں اور اتنے ہی سٹالز لگائے جائیں گے، جس سے طلباء کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع ملے گا۔