گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے پرووسٹ آفس کے زیراہتمام ’’معرکہ حق‘‘ کے عنوان سے پرمعنی اور فکر انگیز پینل ڈسکشن کا انعقاد کیااور قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ
پاکستان کا ہر فرد افواج
پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور دشمنان وطن کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ۔
تقریب میں قائم مقام صوبائی حکومت کے ذمہ داران، گلگت بلتستان کے سیاسی، مذہبی، سماجی اور تعلیمی حلقوں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔پینل ڈسکشن میں جن موضوعات پر گفتگو ہوئی ان میں معرکہ حق کے تناظر میں قومی اعتماد، خودمختاری اور اسٹرٹیجک استحکام، قومی سلامتی میں سیاسی جماعتوں کے کردار، گلگت بلتستان کے آئینی و سماجی مسائل اور ان کے ممکنہ حل، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں علماء، نوجوانوں اور اکابرین کی ذمہ داریو ں نیز نوجوانوں کی تعمیری سرگرمیوں اور قومی وحدت کے لیے عملی اقدامات شامل تھے۔
(جاری ہے)
مقررین جن میں قائم مقام وزیر سید عادل شاہ،سیدہ فاطمہ موسوی،وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی پروفیسر
ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ،سابق
وزیر اعلیٰ جی بی و صدر
مسلم لیگ ن گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن،سابق اپوزیشن لیڈر و صدر پاکستان
پیپلز پارٹی گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین،سابق صوبائی
وزیر اطلاعات و سیکرٹری اطلاعات استحکام پارٹی گلگت بلتستان ایمان شاہ،صدر
پاکستان مسلم ق گلگت بلتستان غضنفرعلی،مجلس وحد ت المسلمین گلگت بلتستان کے رہنما مطہر عباس سمیت دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ
پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی یکجہتی کو مضبوط کرے۔
انہوں نے کہا کہ
پاکستان کا ہر فرد افواج
پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور دشمنان وطن کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ مقررین نے زور دے کر کہا کہ قومی سلامتی محض
فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔گلگت بلتستان کے آئینی و سماجی مسائل کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیے جائیں اور علاقے کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں برابری کی بنیاد پر شامل کیا جائے۔ مذہبی ہم آہنگی کے موضوع پر علماء اور اکابرین نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اس خطے کی روایت اور طاقت ہے اور اسے ہر صورت برقرار رکھنا ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ذمہ داران نے کہا کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نہ صرف علمی و تحقیقی میدان میں بلکہ قومی اقدار کے فروغ میں بھی پیش پیش ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق جیسی تقریبات کا مقصد طلباء اور فیکلٹی میں وطن سے محبت، قومی یکجہتی اور دفاعی شعور کو اجاگر کرنا ہے تاکہ آنے والی نسل ایک باشعور، باعزم اور ذمہ دار شہری کے طور پر ملک و قوم کی خدمت کر سکے۔انہوں نے کہاکہ مضبوط دفاع اور
معاشی استحکام کے ذریعے ہی ملک کوآگے بڑھایا جاسکتاہے۔جس کے لیے نتائج پہ مبنی پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں نسل کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہرممکن مواقع فراہم کرنا اشد ضرورت ہے۔جس کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں کام کررہی ہے۔انشاء اللہ بہت جلد طلباء کو لیپ ٹاپ،سکالرشپ سمیت دیگر ضروری مواقع فراہم کئے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ
پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے اور اگر ان کے اندر حب الوطنی، فکری پختگی اور قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کر دیا جائے تو کوئی قوت اس ملک کو کمزور نہیں کر سکتی۔
اس ضمن میں افواجِ
پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پینل ڈسکشن میں موجود مقررین نے یہ پیغام دیا کہ قوم اورا فواج پاک کا رشتہ محض دفاعی نہیں بلکہ نظریاتی اور جذباتی بھی ہے۔مقررین نے کہاکہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی جانب سے ایسے پروگرامز کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ نوجوانوں کو محض
تعلیم نہیں بلکہ فکری تربیت بھی کررہاہے۔
معرکہ حق دراصل ایک پیغام ہے جو حق کی
جنگ صرف میدان
جنگ میں نہیں لڑی جاتی ہے بلکہ قلم، فکر اور کردار کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوان اپنے اندر سچائی، دیانت اور حب الوطنی کو جگہ دیتے ہیں تو وہ خود ایک مضبوط قلعہ بن جاتے ہیں جو نہ صرف جغرافیائی بلکہ نظریاتی سرحدوں کا بھی محافظ ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے پروگرامز نہ صرف وقت کی ضرورت ہیں بلکہ ایک روشن اور مضبوط
پاکستان کی ضمانت بھی ہیں اگر یہی شعور اور آگہی نوجوانوں میں مسلسل منتقل ہوتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب
پاکستان نہ صرف دفاعی لحاظ سے بلکہ فکری اور نظریاتی میدان میں بھی ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرے گا۔
تقریب میں گلگت بلتستان کی قائم مقام حکومت کے اعلیٰ ذمہ داران، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان، یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران، انتظامی عملہ اور بڑی تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ شرکاء نے تقریب کو علاقائی اور قومی سطح پر انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت سوچ اور قومی ہم آہنگی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف
پاکستان کی ہدایات کے تحت ملک بھر کی جامعات میں معرکہ حق کے عنوان سے تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں دو ہفتوں پر مشتمل تقریبات کا ایک مربوط سلسلہ ترتیب دیا گیا ہے جس میں پینل ڈسکشنز، سیمینارز اور طلباء کی تعمیری سرگرمیاں شامل ہیں۔