اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مئی میں اقوام متحدہ کے چارٹر، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ پر توجہ دے گی، چین

ہفتہ 2 مئی 2026 10:12

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 مئی2026ء) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مئی کے دوران اپنی توجہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی اہمیت کو بحال کرنے، مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کے سیاسی حل کو آگے بڑھانے اور افریقی ممالک میں استحکام و ترقی کے فروغ پر مرکوز رکھے گی۔ یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے بتائی، جو مئی کے لیے سلامتی کونسل کے صدر بھی ہیں۔

شنہوا کے مطابق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے فو کانگ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اولین ترجیح اقوام متحدہ کے چارٹر کے اختیار اور عالمی ادارے کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر تنازعات، تقسیم اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون کو بھی دباؤ کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کو یقینی بنانے اور ادارے کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے، تاکہ دنیا کو دوبارہ بدامنی کی طرف جانے سے روکا جا سکے۔فو کانگ کے مطابق سلامتی کونسل مئی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مضبوط بنانے پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری ترجیح مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا سیاسی حل ہے، جس کے لیے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی طرف آنا ہوگا۔فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور دو ریاستی حل کی بنیاد کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے اور بستیوں کی تعمیر روکے۔

انہوں نے لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وہاں کشیدگی کے خاتمے اور حکومتی استحکام کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔فو کانگ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی تیسری ترجیح افریقی ممالک میں استحکام اور ترقی ہے، جہاں تنازعات کے حل کے لیے مقامی سطح پر مکالمے اور مشاورت کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی امداد اور ترقیاتی تعاون میں اضافہ کرے تاکہ متاثرہ ممالک اپنی ترقی کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کا حل نکال سکیں۔