ججز کی دیانتداری یا ارادوں پر ہلکے انداز میں سوال یا اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا، جسٹس سرفراز ڈوگر

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 2 مئی 2026 12:13

ججز کی دیانتداری یا ارادوں پر ہلکے انداز میں سوال یا اعتراض نہیں اٹھایا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2026ء) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے عدلیہ کے وقار اور نظامِ انصاف کی ساکھ کے حوالے سے ایک فیصلہ جاری کیا ہے، یہ فیصلہ ثناء یوسف قتل کیس کے ٹرائل جج پر عدم اعتماد اور کیس کی منتقلی سے متعلق دائر درخواست پر سنایا گیا ہے، جس میں عدالت نے ججز کے خلاف بلاجواز الزامات کی حوصلہ شکنی کی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے ثناء یوسف قتل کیس کا ٹرائل کرنے والے جج پر عدم اعتماد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے سے انکار کر دیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی جج کے فیصلے یا حکم سے اختلاف کی صورت میں قانونی فورمز موجود ہیں لیکن محض مخالفانہ فیصلے کی بنیاد پر جج کی نیت یا ایمانداری پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کوئی عدالتی حکم کسی فریق کے خلاف آتا ہے تو اس کی جانچ پڑتال کے لیے قانون نے اپیل اور نظرثانی جیسے راستے فراہم کیے ہیں، بغیر کسی ٹھوس مواد یا ثبوت کے، جج کے ارادوں پر ہلکے انداز میں اعتراض کرنا عدلیہ کے وقار کے منافی ہے، کسی جج کی دیانتداری پر سوال اٹھانے کے لیے انتہائی ٹھوس اور غیر مبہم شواہد کا ہونا ضروری ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اپنے فیصلے میں عدالت نے فوجداری نظامِ انصاف (Criminal Justice System) کو بہتر بنانے کے لیے جج اور وکیل کے کردار کی تعریف نو کی گئی ہے، جسٹس سرفراز ڈوگر کا کہنا ہے کہ جج قانون کے مطابق کارروائی چلانے اور بالخصوص فوجداری مقدمات کا تیزی سے فیصلہ یقینی بنانے کا پابند ہے، وکیل کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی میں عدالت کی معاونت کرے، نہ کہ تاخیری حربوں یا بے بنیاد اعتراضات کے ذریعے اس میں رکاوٹ پیدا کرے، اگر محض ناپسندیدہ فیصلوں کی بنیاد پر ججز کو تبدیل کیا جانے لگا، تو اس سے نہ صرف مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ہوگی بلکہ عدالتی نظام پر دباؤ بڑھے گا اور ججز کے لیے آزادانہ طور پر فرائض کی انجام دہی مشکل ہو جائے گی۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ ریمارکس ثناء یوسف قتل کیس کے ٹرائل کے دوران سامنے آئے، جہاں ایک فریق نے ٹرائل جج کے طرزِ عمل پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کیس کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالتِ عالیہ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرائل جج پر لگائے گئے الزامات میں کوئی قانونی وزن یا ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔