اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 مئی 2026ء) جرمنی میں امریکی فوج کم کرنے کا اعلان
جرمنی میں امریکی فوج کم کرنے کا اعلان
امریکی
محکمہ دفاع نے جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں میں سے پانچ ہزار کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس کے درمیان ایران جنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔اس فیصلے سے ایک دن قبل ہی صدر ٹرمپ نے میرس کی طرف سے دیے گئے ایک بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جرمن چانسلر نے قبل ازیں کہا تھا کہ ایران کے مذاکرات کاروں کے ہاتھوں امریکہ کو ’’ذلت‘‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری پیغامات میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرس ’’انتہائی خراب کارکردگی‘‘ دکھا رہے ہیں اور انہیں ’’ہر طرح کے مسائل‘‘ کا سامنا ہے، جن میں امیگریشن اور توانائی کے معاملات بھی شامل ہیں۔
(جاری ہے)
گزشتہ دسمبر تک جرمنی بھر میں قائم مختلف فوجی اڈوں پر 36,000 سے زائد امریکی اہلکار تعینات تھے۔
پینٹاگون
کے ترجمان شین پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حکم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ فیصلہ یورپ میں محکمے کی فوجی پوزیشن کا جامع جائزہ لینے کے بعد خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔‘‘شین پارنیل نے مزید کہا، ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ فوجیوں کا انخلا آئندہ چھ سے بارہ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔‘‘
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طویل عرصے سے نیٹو اتحاد کے ناقد رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہونے والی کارروائیوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی صدر ٹرمپ نیٹو اتحادی ممالک کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔