چنئی ایئرپورٹ پر ایئرعربیہ کے مسافر نے ایمرجنسی ایگزٹ کھول کر چھلانگ لگادی

سکیورٹی اہلکاروں کی دوڑیں، فلائٹ آپریشن معطل، واقعے کے باعث ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول درہم برہم ہو گیا

Sajid Ali ساجد علی اتوار 3 مئی 2026 16:39

چنئی ایئرپورٹ پر ایئرعربیہ کے مسافر نے ایمرجنسی ایگزٹ کھول کر چھلانگ ..
چنئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2026ء) چنئی ایئرپورٹ پر ایئرعربیہ کے مسافر نے ایمرجنسی ایگزٹ کھول کر چھلانگ لگادی۔ خلیج ٹائمز کے مطابق چنئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتوار کی علی الصبح ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جب ایئر عربیہ کے ایک مسافر نے جہاز لینڈ کرنے کے فوراً بعد ہنگامی دروازہ کھول کر رن وے پر چھلانگ لگا دی، اس واقعے کے باعث ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول درہم برہم ہو گیا اور سکیورٹی اداروں میں دوڑیں لگ گئیں۔

بتایا گیا ہے کہ شارجہ سے ایئرعربیہ کی پرواز G9 471 چنئی پہنچی، ایئر بس A320 طیارہ صبح 3 بج کر 23 منٹ پر چنئی ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، جہاز ابھی اپنی پارکنگ بے کی طرف جا ہی رہا تھا کہ 29 سالہ محمد شریف محمد نجم الدین نامی مسافر نے اچانک ہنگامی اخراج کا دروازہ کھولا اور رن وے پر چھلانگ لگا کر فرار ہونے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی صبح پیش آنے والے اس واقعے نے ایئرپورٹ سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا، رن وے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسافر کا تعاقب کیا اور اسے حراست میں لے لیا، چھلانگ لگانے کے باعث مسافر کو معمولی خراشیں آئیں، جس پر اسے ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

بتایا جارہا ہے کہ اس خطرناک اقدام کے بعد حفاظتی اقدامات کے طور پر ایئرپورٹ حکام نے صبح 3 بج کر 25 منٹ پر مین رن وے (07/25) کو فوری طور پر بند کر دیا، رن وے کی بندش کی وجہ سے کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور ایک پرواز کا رخ موڑنا پڑا، طیارے کو رن وے سے ہٹا کر پارکنگ میں کھڑا کرنے کے بعد صبح 4بج کر 35 منٹ پر فلائٹ آپریشن دوبارہ بحال کیا گیا۔

بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ گرفتار مسافر تامل ناڈو کے علاقے پڈوکوٹائی کا رہائشی ہے، ابتدائی پوچھ گچھ میں مسافر نے دعویٰ کیا کہ اس کی ذہنی حالت مستحکم نہیں تھی جس کی وجہ سے اس نے یہ قدم اٹھایا، تاہم چنئی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس عمل کے پیچھے کوئی اور تخریبی مقصد تو نہیں تھا۔

متعلقہ عنوان :