اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2026ء) آبنائے ہرمز کی بندش نے گلوبل انرجی مارکیٹ میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ نے قیمتوں کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا نتیجہ کچھ بھی ہو، گلوبل انرجی مارکیٹس کا نظام جلد معمول پر نہیں آئے گا۔
مبصرین کے مطابق یہ بحران دنیا کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ روایتی ایندھن پر انحصار اب ایک کمزوری بن چکا ہے اور یہی صورتحال قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کو تیز کر سکتی ہے۔
پس پردہ اصل جنگ، امریکہ بمقابلہ چین
خلیج فارس میں طاقت کی کشمکش کے ساتھ ساتھ ایک خاموش مگر بڑی جنگ بھی جاری ہے۔
(جاری ہے)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ تیل اور گیس کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے جبکہ چین گزشتہ دہائی میں خود کو دنیا کے سب سے بڑے کاربن اخراج کنندہ سے ماحول دوست توانائی کے عالمی رہنما میں تبدیل کر چکا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ فوسل فیول کا دور جتنا ممکن ہو جاری رہے جبکہ چین سولر پینلز، بیٹری اسٹوریج اور الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے توانائیکے نئے دور کی قیادت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔
امریکہ توانائی کو بطور سیاسی طاقت استعمال کر رہا ہے؟
انرجی ایکسپرٹ آندریاس گولڈتو کے مطابق امریکہ فوسل فیول پر انحصار کرتے ہوئے اپنی انرجی ویلتھ کو سیاسی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن وسائل سے مالا مال ممالک خصوصاً وینزویلا کو اپنے دائرہ اثر میں لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان کی پیداوار اور برآمدات امریکی مفادات کے عین مطابق ہوں۔
چین کی حکمتِ عملی، گرین انرجی اور ٹیکنالوجی کی حکمرانی
آندریاس گولڈتو نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ دوسری طرف چین کی توجہ مکمل طور پر ڈی کاربنائزیشن، کلین ٹیک اور درآمد شدہ تیل و گیس پر انحصار کم کرنے پر ہے۔ بیجنگ کے لیے یہ صرف تحفظ ماحول کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے شمسی توانائی، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرولائزرز اور رئیر ارتھ میٹلز کی پروسیسنگ میں حیران کن ترقی کی ہے۔ آج دنیا بھر میں 60 سے 70 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چین میں بنتی ہیں جبکہ فوٹو وولٹائکس (سولر پینلز کی ایک قسم) کی عالمی سپلائی چین کا 80 فیصد چین کے کنٹرول میں ہے۔
آندریاس گولڈتو کے بقول سن2025 میں چین نے دنیا کے باقی ممالک کے مقابلے میں شمسی توانائی پر زیادہ سرمایہ کاری کی جبکہ ونڈ ٹربائنز کی عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ 72 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
امریکہ کی برتری
صدر ٹرمپ کے انرجی سیکرٹری کرس وائٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا کا سب سے بڑا گیس برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ فریکنگ اور شیل جیس کمپنیوں کی بدولت امریکہ نے اپنی مقامی پیداوار میں بے مثال اضافہ کیا ہے۔
کرس وائٹ کے مطابق امریکہ سعودی عرب اور روس کی مجموعی پیداوار سے زیادہ تیل پیدا کرتا ہے اور روس، ایران اور چین کی مجموعی پیداوار سے زیادہ قدرتی گیس۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات میں توانائی کو ایک مؤثر ہتھیارکے طور پر استعمال کر رہا ہے۔یورپ کو کم ٹیرف کے بدلے زیادہ امریکی تیل و گیس خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ جرمنی جیسے ممالک کو 20 سالہ ایل این جی معاہدوں میں باندھ کر امریکہ ان کے انرجی فیوچر پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
چین کی جانب سے ٹیکنالوجی کے ذریعے غلبہ
چین
نہ صرف اپنی انرجی کی ضروریات خود پوری کر رہا ہے بلکہ وہ دنیا کو درکار گرین ٹیکنالوجی بھی فراہم کر رہا ہے۔ 2020ء سے سن 2025 کے درمیان چین کی گرین ٹیک برآمدات چار گنا بڑھ چکی ہیں اور سن 2025 میں ماحول دوست توانائی چین کی جی ڈی پی کا ایک تہائی حصہ تھی۔ اگرچہ چین کی 60 فیصد توانائی اب بھی کوئلے سے حاصل ہوتی ہے لیکن ماحول دوست توانائی میں اس کی رفتار سے ترقی اسے مستقبل کی توانائی کی دوڑ میں نمایاں برتری دلا رہی ہے۔امریکہ یا چین، مستقبل کس کا؟
توانائی کے ماہرین کے مطابق دنیا کا رجحان واضح طور پر قابل تجدید توانائی کی طرف ہے۔
ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل و گیس کی بڑھتی قیمتوں نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ گولڈتو کے مطابق اگر آج فیصلہ کرنا پڑے تو وہ کسی ایسی ریاست پر شرط لگائیں گے، جو فیوسل فیول کے بجائے الیکٹرک ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسا ملک جو نہ صرف خود ماحول دوست توانائی کے ذرائع پر انحصار کرتا ہے بلکہ دنیا کو درکار ٹیکنالوجی بھی تیار کرتا ہے۔ادارت: عاطف بلوچ