Live Updates

ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف کا نام لکھنے سے پہلے سید عاصم منیر کا نام لکھتے ہیں، مفتاح اسماعیل

یہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے پاکستان کی اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل وزیراعظم سے زیادہ طاقتور ہیں اور حتمی فیصلہ ہمیشہ وہی کرتے ہیں، سابق وزیر خزانہ کا بیان

Sajid Ali ساجد علی اتوار 3 مئی 2026 18:06

ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف کا نام لکھنے سے پہلے سید عاصم منیر کا نام لکھتے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2026ء) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم شہباز شریف کا نام لکھنے سے پہلے سید عاصم منیر کا نام لکھتے ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق گزشتہ ہفتے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کی ناکامی کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، لیکن محض 24 گھنٹوں کے اندر وہ واپس لوٹ آئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار ان کی منزل وزیراعظم ہاؤس نہیں بلکہ جی ایچ کیو تھی، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے دوسری بار ملاقات کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت دنیا کے واحد شخص ہیں جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان مذاکرات نے پاکستان کے طاقتور ڈھانچے سے پردہ اٹھا دیا ہے، 2008ء میں پرویز مشرف کے جانے کے بعد سے 'اسٹیبلشمنٹ' پردے کے پیچھے سے ملک چلانے کو ترجیح دیتی رہی ہے (چاہے وہ 2018 اور 2024 کے انتخابات ہوں یا وزرائے اعظم کی جیل منتقلی) لیکن اب فیلڈ مارشل عاصم منیر مکمل طور پر منظرِ عام پر ہیں۔

(جاری ہے)

برطانوی اخبار نے لکھا کہ انہوں نے نا صرف 'فیلڈ مارشل' کا لقب قبول کیا (جو ان سے پہلے صرف ایوب خان کے پاس تھا) بلکہ 'چیف آف ڈیفنس اسٹاف' کا نیا مستقل عہدہ تخلیق کرکے اس پر فائز بھی ہوئے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ وزیر اعظم کا نام لکھنے سے پہلے عاصم منیر کا نام لکھتے ہیں، یہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے پاکستان کی اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل وزیر اعظم سے زیادہ طاقتور ہیں اور حتمی فیصلہ ہمیشہ وہی کرتے ہیں"۔

رپورٹ میں یہ بھی تحریر ہے کہ پاکستان کے لیے اس جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ ملکی معیشت کا دارومدار آبنائے ہرمز سے آنے والے تیل و گیس پر ہے، جسے ٹرمپ نے بند کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے، پاکستان کی نظریں ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر ہیں، جو امریکی پابندیوں کی وجہ سے رکی ہوئی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امید ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اس منصوبے کے لیے پابندیوں میں نرمی دلوا سکتے ہیں، ایران پہلے ہی 18 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کی تیاری میں ہے۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرکے بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کو ناکام بنا دیا ہے، لیکن یہ کردار خطرات سے خالی نہیں، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ 'اسلامی نیٹو' طرز کا دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس پر متحدہ عرب امارات (UAE) نے تشویش کا اظہار کیا ہے، متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں 3.5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس کی ایک وجہ پاکستان کا سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون بتایا جاتا ہے۔

دی ٹیلیگراف کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے ایران کے لیے چھ نئے تجارتی راستے کھولنے کا اعلان کیا ہے، جسے واشنگٹن میں موجود کچھ لوگ "ڈبل ڈیلنگ" قرار دے رہے ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سب واشنگٹن کی مرضی سے ہو رہا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ انتظامیہ کو اس بات پر بھی قائل کیا کہ 'بی ایل اے' (BLA) کو دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے، پاکستان چاہتا ہے بلوچستان کے معدنیاتی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری آئے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بحال ہو۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات