Live Updates

ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں، صدر ٹرمپ

DW ڈی ڈبلیو اتوار 3 مئی 2026 13:00

ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں، صدر ٹرمپ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2026ء) ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں، صدر ٹرمپ کا عندیہ


ایران پر نئے حملوں کا امکان بدستور برقرار ہے، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کا اظہار کر دیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اپریل کو جنگ بندی کی ایک عارضی ڈیل ہوئی تھی، جس کا مقصد اس تنازعے کے خاتمے کی خاطر مکالمت کرنا تھی۔ تاہم سیز فائر کے بعد سے امن مذاکرات مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور فارس کے مطابق تہران نے پاکستان کو چودہ نکاتی تجویز پیش کی ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا نظام شامل ہے۔

(جاری ہے)

ایرانی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ہفتے کے دن اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا، ’’میں جلد ہی ایران کی جانب سے بھیجے گئے منصوبے کا جائزہ لوں گا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ قابل قبول ہو گا کیونکہ انہوں نے گزشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی کافی قیمت ابھی تک ادا نہیں کی۔‘‘

فلوریڈا میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں صدر ٹرمپ نے البتہ یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی صورتحال نئے فوجی اقدام کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اگر وہ غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یا کوئی برا قدم اٹھاتے ہیں تو ممکن ہے ایسا ہو۔‘‘

ادھر ایران کی فوجی قیادت کے ایک سینیئر عہدیدار محمد جعفر اسدی نے بھی اس اندیشے کا اظہار کر دیا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتا۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ کے نمائندے نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام دوبارہ مذاکرات میں شامل کیا جائے۔

امریکہ اور متعدد مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار کرنے کی کوشش میں ہے تاہم تہران حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام سول مقاصد کے لیے ہے اور یورینیم افزدہ کرنا اس کا حق ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات