دبئی میٹرو ٹرین کی نئی بلیو لائن پر سرنگوں کی کھدائی کے کام کا آغاز

9 ستمبر 2029ء تک منصوبہ مکمل کرنے کیلئے 10 ہزار سے زائد ملازمین اور انجینئرز وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں؛ شیخ محمد بن راشد

Sajid Ali ساجد علی اتوار 3 مئی 2026 18:38

دبئی میٹرو ٹرین کی نئی بلیو لائن پر سرنگوں کی کھدائی کے کام کا آغاز
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2026ء) دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اتوار 3 مئی 2026 کو دبئی میٹرو ٹرین کی نئی "بلیو لائن" (Blue Line) پر سرنگوں کی کھدائی کے کام کا باقاعدہ افتتاح کردیا، 20.5 ارب درہم کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ دبئی کو مزید مربوط، موثر اور پائیدار شہر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے دبئی میٹرو ٹرین کی بلیو لائن پر ٹنل بورنگ مشین (TBM) چلا کر کھدائی کے کام کا آغاز کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری دراصل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، اور دبئی کے منصوبے بلند ترین عالمی معیارات اور قومی ٹیلنٹ کے مرہونِ منت ہیں، 9 ستمبر 2029ء تک منصوبہ مکمل کرنے کیلئے 10 ہزار سے زائد ملازمین اور انجینئرز وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ بلیو لائن 9 ستمبر 2029ء کو عوام کے لیے کھول دی جائے گی، اس لائن کی کل لمبائی 30 کلومیٹر ہے، جس میں سے 15.5 کلومیٹر زیر زمین اور 14.5 کلومیٹر زمین سے اوپر ہوگی، بلیو لائن 14 اسٹیشنوں پر مشتمل ہوگی اور یہ ریڈ لائن (سینٹر پوائنٹ اسٹیشن) اور گرین لائن (کریک اسٹیشن) کو آپس میں جوڑے گی، یہ لائن دبئی ایئرپورٹ اور 9 اہم علاقوں کے درمیان براہِ راست رابطہ فراہم کرے گی، جس سے سفر کا وقت محض 10 سے 25 منٹ رہ جائے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) نے کھدائی کرنے والی مشین کو ’الوقیشہ‘ کا نام دیا ہے، اس کی لمبائی 163 میٹر اور وزن 2 ہزار ٹن سے زیادہ ہے، یہ مشین چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً 13 سے 17 میٹر کھدائی کرتی ہے، یہ ڈیجیٹل گائیڈنس سسٹم اور جدید مانیٹرنگ آلات سے لیس ہے، جو ریتلی تہوں اور سخت چٹانوں کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ ایک ماحول دوست مشین ہے جو قریبی مٹی کی تہوں کو نقصان نہیں پہنچاتی۔

بتایا جارہا ہے کہ منصوبہ اس وقت 20 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ 2026ء کے آخر تک یہ 30 فیصد تک پہنچ جائے گا، 10 ہزار سے زائد ورکرز اور 500 انجینئرز اماراتی قیادت میں اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں، دبئی کریک (Dubai Creek) پر میٹرو کا پہلا پل بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جو 1.3 کلومیٹر طویل ہوگا، اس موقع پر شیخ محمد نے دبئی کی نئی شکل سازی کے لیے 'گولڈ لائن' کا بھی ذکر کیا، اس لائن کے لیے 34 ارب درہم مختص کیے گئے ہیں، جو دبئی کی پبلک ٹرانسپورٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع ہے، یہ مکمل طور پر زیرِ زمین لائن ہوگی جس کے 18 اسٹیشنز ہوں گے اور یہ 40 میٹر کی گہرائی تک جائے گی، یہ لائن قومی ریل نیٹ ورک 'اتحاد ریل' کے ساتھ بھی منسلک ہوگی۔

دبئی کے حکمران نے واضح کیا کہ بلیو لائن اور گولڈ لائن کے علاوہ دبئی میں نئے ایئرپورٹ کی تعمیر، ڈی آئی ایف سی (DIFC) کی نئی شکل اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے بڑے منصوبے جاری ہیں، "ایمار پراپرٹیز" اسٹیشن دنیا کا بلند ترین میٹرو اسٹیشن ہوگا، جسے برج خلیفہ ڈیزائن کرنے والی مشہور امریکی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے، ان منصوبوں کا مقصد دبئی میں ٹریفک کے دباؤ کو 20 فیصد تک کم کرنا اور 2040ء تک روزانہ لاکھوں مسافروں کو عالمی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔