سوئی گیس بحران شدت اختیار کر گیا، شہری مہنگی ایل پی جی پر مجبور

م* باقاعدہ بلوں کی ادائیگی کے باوجود گیس کی عدم فراہمی، شہریوں کا ریلیف کا مطالبہ

اتوار 3 مئی 2026 21:05

ژ*لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 مئی2026ء) شہر میں سوئی گیس کے کم پریشر اور مسلسل قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مقررہ اوقات کار میں بھی گیس کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا سکی۔ذرائع کے مطابق گیس کی عدم دستیابی کے باعث شہری مہنگی ایل پی جی کے استعمال پر مجبور ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔

(جاری ہے)

مارکیٹ میں ایل پی جی 430 سے 460 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک طرف باقاعدگی سے سوئی گیس کے بل ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کھانا پکانے کے لیے مہنگی ایل پی جی خریدنے پر بھی مجبور ہیں، جس سے ان کے مالی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔خصوصاً سفید پوش طبقہ اس صورتحال سے شدید متاثر ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور ایل پی جی کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم ہو سکے۔