وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا 35 واں اجلاس

منگل 5 مئی 2026 20:59

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کے بورڈ آف گورنرز کا 35 واں اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ایٹا کی مجموعی کارکردگی اور ٹیسٹنگ نظام میں متعارف کرائی گئی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے ایٹا میں نافذ اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایٹا کے تحت ٹیسٹنگ نظام کو پیپر بیسڈ سے کمپیوٹر بیسڈ نظام پر کامیابی سے منتقل کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور نقل و پیپر لیکج کے امکانات کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔

(جاری ہے)

مزید بتایا گیا کہ امتحانات کی لائیو سٹریمنگ کی جاتی ہے اور نتائج فوری طور پر جاری کیے جاتے ہیں جبکہ عوامی اعتماد کی بحالی اور پبلک فیڈ بیک کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی فعال بنایا گیا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کمپیوٹر بیسڈ نظام کے نفاذ سے کاغذ کے استعمال کا خاتمہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال ایٹا کے تحت 37 پراجیکٹس مکمل کیے گئے جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 166 ہو چکی ہے۔ نقل کی روک تھام کے لیے فیس ریکگنیشن، کوالٹی چیک، سورس بیسڈ کاؤنٹرنگ اور سخت سزاؤں کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ٹیسٹ کے لیے رول نمبر کی بجائے فیس لاگ ان سسٹم متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔

ادارے کے مالی اور انتظامی نظام کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع مینوئل بھی تیار کر لیا گیا ہے جبکہ امتحانات میں نگران اسٹاف میں 50 فیصد خواتین کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ میں ایٹا کے خلاف دائر 90 مقدمات میں سے 86 کا فیصلہ ایٹا کے حق میں آ چکا ہے جبکہ 4 مقدمات زیر التواء ہیں۔ دیگر امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایٹا کے نئے ایکٹ کی کابینہ سے منظوری حاصل ہو چکی ہے اور ادارے کو آئی ایس او 9000 سرٹیفیکیشن بھی مل چکی ہے۔مزید برآں، وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اور گلگت بلتستان حکومت بھی ایٹا کی خدمات حاصل کر رہے ہیں، جو ادارے کی کارکردگی پر اعتماد کا مظہر ہے۔