اسرائیل کی غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

یاہو نے اہم سیکیورٹی اجلاس منسوخ کر کے محدود مشاورت شروع کر دی ،عرب ٹی وی

پیر 4 مئی 2026 18:50

غزہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حالات بدستور کشیدہ ہیں اور اسرائیل کی جانب سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں نے خدشات بڑھا دئیے ۔عرب ٹی وی کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 828 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بمباری اور کارروائیاں جاری ہیں۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اہم سیکیورٹی اجلاس منسوخ کر کے محدود مشاورت شروع کر دی جبکہ فوجی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ نئی جنگ تقریبا ناگزیر ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی کنٹرول کی حدود بڑھا کر تقریبا 59 فیصد علاقے تک پھیلا دی ہیں۔دوسری جانب مصر میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں جہاں امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت حماس سے 281 دن میں مرحلہ وار ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس منصوبے میں امداد اور تعمیرِ نو کو ہتھیاروں کی حوالگی سے مشروط کیا گیا ہے جسے فلسطینی گروہوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

حماس اور دیگر تنظیموں کا موقف ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا معاملہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور قبضے کے خاتمے سے مشروط ہونا چاہیے، انسانی امداد کو دبا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اسرائیل کی جنگ کی دھمکیاں سیاسی دبا بڑھانے اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہیں۔اسرائیلی فوج پر مختلف محاذوں پر دبا بڑھ رہا ہے اور طویل فوجی خدمات کے باعث اہلکار تھکن کا شکار ہیں۔