تھائی لینڈ کا کمبوڈیا کے ساتھ بحری معاہدہ منسوخ ،اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے فریم ورک کی طرف رجوع

منگل 5 مئی 2026 15:38

بینکاک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) تھائی لینڈ کی کابینہ نے کمبوڈیا کے ساتھ 2001 کے بحری معاہدے کو منسوخ کرنے کی منظوری دے دی ہے اور مستقبل کے مذاکرات کو اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق وزیراعظم کے دفتر کی ترجمان راچڈا تھانادیریک نے بتایا کہ یہ فیصلہ تھائی لینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سیہاسک پھوانگکی ٹکاؤ کی تجویز کے مطابق کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ مذاکراتی فریم ورک کو موجودہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی قانون کے مطابق لانا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 2001 کے مفاہمتی یادداشت کی منسوخی دوطرفہ تعلقات یا مذاکرات کی معطلی نہیں بلکہ تعاون کے فریم ورک کی نئی ترتیب ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ اب بھی کمبوڈیا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم یہ بات چیت اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت ہوگی، جو سمندری تنازعات کے حل کے لیے واضح اور منظم طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ 2001 کا معاہدہ دونوں ممالک کے متنازع سمندری علاقوں میں مشترکہ وسائل کے انتظام کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن دو دہائیوں میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہونے کے باعث اس پر نظرثانی ضروری سمجھی گئی تاکہ مستقبل کے مذاکرات سے ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ترجمان نے کہا کہ تھائی لینڈ بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے طریقہ کار کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں فریقین کے درمیان مذاکرات کو تنازعات کے حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ نے غیر رسمی طور پر کمبوڈیا کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور جلد ہی باضابطہ نوٹیفکیشن کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور قانونی کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی تاکہ نئے فریم ورک کے تحت معاملات کو منظم کیا جا سکے۔