بلوچستان اسمبلی میں مدارس کے معاملے پر اپوزیشن کا واک آئوٹ، حکومت کی مسئلے کے حل کی یقین دہانی

منگل 5 مئی 2026 21:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں قانون سازی اور وقفہ سوالات شامل تھے۔ اجلاس کے آغاز پر چار سدہ سمیت مختلف واقعات میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس کے دوران مدارس کی بندش اور رجسٹریشن کے معاملے پر ایوان میں شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں مدارس کو بند کیا جا رہا ہے جبکہ شراب خانوں کے لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹرڈ کرنے پر اعتراض نہیں، تاہم انہیں بند کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مدارس کے خلاف نہیں بلکہ ان میں زیر تعلیم غیر ملکی افراد کی رجسٹریشن چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مساجد کو بند نہیں کیا جا رہا اور حکومت مدارس کے منتظمین سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔اپوزیشن ارکان اصغر ترین، رحمت صالح بلوچ اور ہدایت الرحمن شامل نے کہا کہ مدارس کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور اگر رویہ تبدیل نہ ہوا تو اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ اس دوران اپوزیشن نے ایوان سے واک آئوٹ بھی کیا تاہم صوبائی وزرا میر شعیب نوشیروانی، میر ضیا اللہ لانگو اور میر صادق عمرانی کے منانے کے بعد اپوزیشن ایوان میں واپس آ گئی۔