جموں و کشمیر،جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلبا کا احتجاجی مظاہرہ ، ادارے کی بحالی کا مطالبہ، سوپور میں بھارتی فوج کی گاڑی کی دانستہ ٹکر سے کم سن بچہ جاں بحق

جمعرات 7 مئی 2026 17:32

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں وکشمیر کے ضلع شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلبا اوران کے والدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جسے بھارتی حکومت نے غیر قانونی قراردے کر گزشہ ماہ سیل کر دیا تھا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اس موقع پر طلبا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہےکہ حکام نے ادارہ بند کر کے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے اور وہ سخت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

طلبا کا کہنا تھا کہ بورڈ کے امتحانات قریب ہیں اور اس نازک وقت میں ہمیں سڑکوں پر آنے کےلئے مجبور کیا جار ہا ہے ۔ طلبا اور والدین نے حکام سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ادارے کو جلد کھول دیں۔

(جاری ہے)

امر سنگھ کالج سرینگر کے طلبا نے بھی کالج انتظامیہ کے ناروا رویے اور ہراسانی کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے ہراسانی میں ملوث افراد کےخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ضلع بارہمولہ کے معروف قصبے سوپور میں بھارتی فوج نے دانستہ طور پر ایک تین سالہ بچے محمد زین کوگاڑی سے دانستہ طور پر ٹکر مار کر مار ڈالا۔بچے کے اہل خانہ سمیت علاقے کے لوگو ں نے اس واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ انہوں نے مجرم بھارتی فوجیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا بھارتی انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں ضمیر احمد لون نامی ایک کشمیری کی ایک کنال اور 14مرلے سے زائد اراضی ضبط کرلی۔

سرینگر میں بھی ایک کشمیری کی جائیداد ضبط جبکہ ایک اور کا گھر مسمارکیا گیا۔ جموں و کشمیر میں بھی معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر انتہائی جوش وخروش پایا جاتا ہے۔ کشمیری پاکستان کی شاندار کامیابی اور بھارت کی شکست فاش کا دن انتہائی جوش وخروش سے منا رہے ہیں۔آزادی پسند کشمیری نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے حق میں وڈیوز اپ لوڈ کی جارہی ہیں جبکہ سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تصویر والے پوسٹر چسپاں کیے جا رہے ہیں۔