Live Updates

ایران اور امریکہ ممکنہ مفاہمتی فریم ورک کے قریب پہنچنے والے ہیں، سردار مسعود خان

جمعرات 7 مئی 2026 22:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر اور اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب، سردار مسعود خان، نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت دونوں ممالک کو کشیدگی میں کمی اور خطے میں مزید تصادم روکنے کے لیے ممکنہ مفاہمتی فریم ورک کے قریب لے جا سکتی ہے۔

ایک بین الاقوامی ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کی جانب سے سخت بیانات اور عسکری اشاروں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے خطے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی۔ تاہم، ان کے مطابق دونوں دارالحکومتوں سے سامنے آنے والے حالیہ اشارے اور آزاد سفارتی جائزے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے نئی پیش رفت ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے‘‘پروجیکٹ فریڈم’’کو مؤخر کرنے کا فیصلہ اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں فریقوں کے لئے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ سردار مسعود خان کے مطابق، اگرچہ تنازع کے عسکری اور اقتصادی پہلو بدستور دباؤ کا باعث ہیں، تاہم سفارت کاری کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے، خصوصاً ان اطلاعات کے بعد کہ دونوں ممالک ایک ممکنہ مفاہمتی فریم ورک کے قریب پہنچنے والے ہیں۔

سردار مسعود خان نے پاکستان کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے دو سخت مؤقف رکھنے والے مخالف فریقوں کے درمیان رابطہ کاری میں انتہائی حساس اور مشکل سفارتی ذمہ داری ادا کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے پہلے علاقائی ممالک کی حمایت حاصل کی، جس کے بعد چین، روس، یورپی یونین اور یورپی کونسل سمیت اہم عالمی فریقوں سے بھی رابطے کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو واشنگٹن اور تہران، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ممکنہ سفارتی فریم ورک کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو مجموعی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی بحالی، امریکی پابندیوں میں نرمی، اور سمندری تجارت و توانائی کی بلا تعطل ترسیل کی ضمانتیں شامل ہیں۔

دوسرا حصہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے، جس میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت ایران کے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق کو تسلیم کرنے کے ساتھ، ایک مخصوص حد سے زیادہ یورینیم افزودگی پر عارضی پابندی زیرِ غور ہے۔ تیسرے حصے میں عسکری اور اقتصادی پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی ممکنہ بحالی شامل ہے۔

یورینیم افزودگی سے متعلق خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ معاملہ بدستور حساس ہے، تاہم سفارتی لچک کی نئی فضا ایران کو پرامن مقاصد کے لیے محدود افزودگی کی اجازت دینے اور ساتھ ہی امریکی سکیورٹی خدشات کو مدتِ مقررہ پابندیوں کے ذریعے دور کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ غالباً جاری رہے گا، جس کا مقصد اندرونی سیاسی پیغام رسانی اور مذاکراتی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔

اس کے باوجود، ان کے مطابق دونوں حکومتیں سنجیدہ اور منظم انداز میں سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہیں۔اپنی گفتگو کے اختتام پر سردار مسعود خان نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کے تکنیکی خدوخال متعدد مذاکراتی ادوار کے بعد بڑی حد تک واضح ہو چکے ہیں، تاہم اب اصل فیصلہ کن عنصر تہران اور واشنگٹن کی سیاسی آمادگی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات میں مزید متنازع امور شامل کرنے سے پیش رفت پیچیدہ ہو سکتی ہے، تاہم عملی نوعیت کی مفاہمت ایک پائیدار سفارتی پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات