وفاقی دار الحکومت میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی، پہلے چار ماہ میں جرائم میں 36 فیصد، اپریل میں 50 فیصد کمی ریکارڈ

جمعرات 7 مئی 2026 21:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 مئی2026ء) اسلام آباد پولیس نے سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق رواں سال مجموعی جرائم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 36 فیصد جبکہ صرف ماہ اپریل میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس سید علی ناصر رضوی کی زیرِ کمان پولیس نے ڈکیتی، راہزنی، کار اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث 192 گینگز کے 447 ارکان کو گرفتار کیا۔ کارروائیوں کے دوران ملزمان سے 12 کروڑ روپے سے زائد مالِ مسروقہ بھی برآمد کیا گیا۔ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کے مطابق سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں رابری کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 98 کم کیسز رپورٹ ہوئے۔

(جاری ہے)

شاپ رابری کے کیسز میں بھی 33 واقعات کی کمی ریکارڈ کی گئی۔پولیس اعداد و شمار کے مطابق موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات 129 سے کم ہو کر 92 رہ گئے، جبکہ راہزنی اور موبائل فون چھیننے کے کیسز میں 185 واقعات کی کمی ہوئی۔ سال 2025 کے ابتدائی چار ماہ میں ایسے 377 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو رواں سال کم ہو کر 192 رہ گئے۔کار چوری کے واقعات میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی، جہاں گزشتہ سال 151 کیسز کے مقابلے میں رواں سال صرف 34 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل چوری کے واقعات 1001 سے کم ہو کر 642 تک آ گئے۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق اسلام آباد پولیس نے رواں سال 8 سے زائد ہائی پروفائل کیسز کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ٹریس کیا، جن میں معروف تاجر میاں عامر قتل کیس، تھانہ کورال رابری کے دوران اندھا قتل کیس اور تھانہ کوہسار کی حدود سے اغوا کے بعد قتل کا مقدمہ شامل ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال 400 سے زائد اشتہاری اور سابقہ ریکارڈ یافتہ مجرمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ شہریوں کے مسائل کے فوری حل کیلئے 400 سے زائد کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں۔

جرائم کے انسداد اور امن و امان کے قیام کیلئے 685 سے زائد سرچ آپریشنز بھی کیے گئے۔اسلام آباد پولیس کے مطابق ریسکیو 15 پر موصول ہونے والی کالز پر بروقت کارروائی اور مقدمات کے اندراج کو یقینی بنایا گیا، جبکہ ایف آئی آر رجسٹریشن کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے اور بروقت رسپانس کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔