گزشتہ دو سال میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کا انکشاف

کمیٹی نے ڈریپ سربراہ سے دواں کی قیمتوں کے تعین کا فارمولہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ شماریات حکام کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا

جمعرات 7 مئی 2026 20:08

گزشتہ دو سال میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کا انکشاف
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہیکہ گزشتہ دو سال کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی ارکان کی جانب سے ملک میں دواں کی قیتموں میں اضافے پر شدید تنقید کی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2024 میں نگراں حکومت کے دور میں دواں کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا جب سے کمپنیاں قیتموں کا تعین خود کرتی ہیں، 2 سال کے دوران مختلف دواں کی قیمتوں میں 100فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ قانون کے مطابق ڈریپ صرف زندگی بچانے والی دواں کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرسکتی ہے جبکہ وفاقی وزیر صحت مصفطی کمال نے کہا کہ دواں کی قیمتوں کی کمی یا اضافے میں وزارت صحت کا کوئی کردار نہیں۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے ڈریپ سربراہ سے دواں کی قیمتوں کے تعین کا فارمولہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ شماریات حکام کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔

کمیٹی نے کہا کہ اس سے پتا چلتا ہے پاکستان میں فارماسیوٹیکل کے کاروبار سے زیادہ منافع بخش کوئی کاروبار نہیں، یہ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کوکھلی چھٹی دے دی جائے، اس قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ڈریپ کے سربراہ ڈاکٹر عبید اللہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 659 دوا ساز کمپنیاں ہیں، 394 ادارے بیرون ملک سے دوائیں اور ویکسین درآمد کرتے ہیں، پاکستانی ادویہ 51 ملکوں کو برآمد ہو رہی ہیں جب کہ گزشتہ سال پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی سیل ایک کھرب32کروڑ روپے رہی۔