بری امام اپریشن کسی کے خلاف نہیں بلکہ سرکاری زمین کو واگزار کرانے کیلئے کیا گیا ،طلال چوہدری

' وزیر داخلہ اشرافیہ کے محلات کے خلاف بھی ویسا ہی ایکشن لیں جیسا غریبوں پر لیا، بری امام کے مکینوں سے زبردستی مکانات خالی کروائے گئے،کئی روز تک سوشل میڈیا اور ٹی وی پر پولیس ایکشن اور شیلنگ کے مناظر چلتے رہے، پارٹیشن سے پہلے کے یہاں آباد ہیں انہیں معاوضہ دیا جائے، شیری رحمان 101 کے قریب پلاٹس لوگوں کو آیف نائن میں دیے گئے، کسی کے خلاف بغیر نوٹس کے آپریشن نہیں کیا گیا ہے،وزیر مملکت داخلہ کا توجہ دلائو نوٹس پر جواب

جمعرات 7 مئی 2026 20:10

D اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 مئی2026ء) ایوان بالا کو وزیر مملکت برائے دخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ بری امام اپریشن کسی کے خلاف نہیں بلکہ سرکاری زمین کو واگزار کرانے کیلئے کیا گیا ہے ،جمعرات کو ایوان بالا میں بری امام اپریشن کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ بری امام کے مکینوں سے زبردستی مکانات خالی کروائے گئے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں کئی روز تک سوشل میڈیا اور ٹی وی پر پولیس ایکشن اور شیلنگ کے مناظر چلتے رہے۔

انہوں نے کہاکہ بری امام کے مکینوں کا موقف ہے کہ وہ پارٹیشن سے پہلے کے یہاں آباد ہیں انہیں معاوضہ دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ خاتون نرگس بی بی تشدد اور پریشانی کے باعث ہسپتال میں زندگی موت کی کشمکش میں ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ شہری ہونے کے ناطے غریبوں کی عزت اور تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ اشرافیہ کے محلات کے خلاف بھی ویسا ہی ایکشن لیں جیسا غریبوں پر لیا۔

انہوں نے کہاکہ متاثرہ خاندانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو بحران پھیلا ہوا ہے وہ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہاکہ کچی آبادیوں سے لوگوں کو نکالنے سے پہلے معاوضہ اور متبادل فلیٹس فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ سرکاری زمینوں پر بڑے بڑے لوگوں کے محلات بنے ہوئے ہیں وہ بھی مکمل تجاوزات ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن یہاں شہریوں پر گولیاں اور تشدد کیا جا رہا ہے اگر ریاست کی مجبوری ہے تو پریس کانفرنس کریں اوراپنی مجبوری بتائے۔

توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہاکہ بری امام اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ایف فور سیکٹر ہے۔انہوں نے کہاکہ بر امام سمیت چار گاؤں اسلام آباد کے سی ڈی اے کی طرف سے حاصل کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کی زمین حاصل کی گئی انہیں متبادل زمین اور پیسہ دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ101 کے قریب پلاٹس لوگوں کو آیف نائن میں دیے گئے۔انہوں نے کہاکہ کسی کے خلاف بغیر نوٹس کے آپریشن نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سرکاری زمین اربوں روپے کی ملکیت ہے،یہ آپریشن کسی کی ذات کے لیے نہیں ہوا ہے۔۔۔