ہانٹا وائرس کیا ہے اور انسانوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

طبی ماہرین نے حال ہی میں تیزی سے خبروں کی زینت بننے والے ہانٹا وائرس کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا

muhammad ali محمد علی جمعرات 7 مئی 2026 22:10

ہانٹا وائرس کیا ہے اور انسانوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2026ء) ہانٹا وائرس کیا ہے اور انسانوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ طبی ماہرین نے حال ہی میں تیزی سے خبروں کی زینت بننے والے ہانٹا وائرس کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔
ہانٹا وائرس ایک ایسی قسم کے وائرس ہیں جو بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہ سانس اور دل کے مسائل کے ساتھ ساتھ ہیمرجک بخار (خون بہنے والے بخار) کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہانٹا وائرس کا نام جنوبی اور شمالی کوریا کے سرحدی علاقے پر واقعے ہانٹا دریا سے منسوب ہے۔ ماہرین کے مطابق ہانٹا وائرس 2 بیماریوں کے پھیلاو کا باعث بنتا ہے۔ ایک پلمونری سنڈروم اور دوسری ہیمرجک فیور ود رینل سنڈروم۔ پلمونری سنڈروم یہ بنیادی طور پر براعظم امریکہ میں اثر انداز ہوتا ہے اور شدید سانس کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ ہیمرجک فیور ود رینل سنڈروم زیادہ تر یورپ اور ایشیا میں پایا جاتا ہے اور اس کی خصوصیت شدید گردے کی تکلیف ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق اس وائرس کے انفیکشن زیادہ تعداد میں نہیں ہوتے اور عموماً متاثرہ چوہوں سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔ بعض واقعات میں یہ انفیکشن شدید نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال ہنٹا وائرس کے کم از کم 10 ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ مریض سامنے آتے ہیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق ایشیا اور یورپ سے ہوتا ہے۔

انسانوں میں اس بیماری کی علامات عام طور پر متاثرہ ذریعے سے رابطے کے ایک سے چھ ہفتوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں جن میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور معدے سے متعلق مسائل جیسا پیٹ درد، متلی یا قے شامل ہیں۔ انسانوں کے درمیان اس وائرس کی منتقلی عام نہیں، تاہم ہنٹا وائرس کی ایک قسم "اینڈیز وائرس" کے گزشتہ پھیلاؤ میں قریبی رابطوں کے ذریعے محدود منتقلی دیکھی گئی تھی۔

متاثرہ لوگ عموماً متاثرہ چوہوں، ان کے پیشاب، فضلے یا لعاب کے ذریعے اس وائرس کا شکار ہوتے ہیں۔ ہنٹا وائرس کا نگہداشت کے علاوہ کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔ عام طور پر مریضوں میں سانس کے مسائل جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے انہیں سانس لینے میں مدد فراہم کرنا نہایت اہم ہے۔ بعض مریضوں کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور حالت بگڑنے پر انتہائی نگہداشت کی فراہمی ضروری ہو جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :