گھر اور خاندان میں نئی ماؤں کی مدد کیسے کریں؟

زچہ یعنی نئی ماں کے لیے اس کے آس پاس موجود لوگ نہایت اہم ہوتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس کا ساتھ درست انداز میں کیسے دیا جائے

Umer Jamshaid عمر جمشید جمعہ 8 مئی 2026 17:09

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2026ء) جب گھر میں نیا بچہ آتا ہے تو توجہ فطری طور پر اسی کی طرف چلی جاتی ہے؛ دودھ پلانے کے اوقات، نشوونما کے مراحل، ننھی انگلیاں اور ننھے پاؤں سب کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہ سب یقیناً بہت اہم ہے، مگر اسی کمرے میں ایک اور وجود بھی ہوتا ہے، یعنی ماں، جسے اتنی ہی دیکھ بھال اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔


ایک نئی ماں کا سہارا بننے کے لیے بڑے بڑے اقدامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ مستقل طور پر اس کے ساتھ موجود رہیں، بغیر کوئی رائے قائم کیے یا فیصلے صادر کیے اس کی بات سنیں، اور یہ سمجھیں کہ اس کی خیریت بھی بچے کی طرح ہی اہم ہے۔ آپ اس کی شروعات ساد ہ سی بات سے کرسکتے ہیں جیسا کہ آپ اس سے ہمدردی کےساتھ پوچھ سکتے ہیں: ’’آپ کیسی ہیں؟‘‘
نئی ماؤں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے
بہت سے گھر والے نیک نیتی سے مدد کرنا چاہتے ہیں، مگر انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں۔

(جاری ہے)

کبھی وہ مشورے دینے لگتے ہیں، جبکہ نئی ماں کو صرف کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو خاموشی سے اس کی بات سن لے۔ کبھی وہ بچے کو سنبھالنے لگتے ہیں، جبکہ اسے دراصل چند گھنٹوں کی پرسکون اور بلاتعطل نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئی مائیں بار بار ہمیں بتاتی ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے:
عملی مدد، جیسے کھانا پکا دینا، کپڑے دھونے میں مدد کرنا، اور گھر کے کام سنبھال لینا۔

ایک ایسی نئی ماں کے لیے، جو کم نیند اور اس سے بھی کم جذباتی توانائی کے ساتھ دن گزار رہی ہو، یہ چھوٹے چھوٹے کام بہت بڑا سہارا بن جاتے ہیں۔
جذباتی موجودگی۔ اس کے لیے ایسا سازگار ماحول مہیا کریں جہاں وہ اپنے احساسات کی پوری کیفیت بیان کر سکے۔ ان میں وہ مشکل اور الجھا دینے والے احساسات بھی شامل ہیں جن پر بات کرنا آسان نہیں ہوتا؛ جبکہ آپ فوراً انہیں ٹھیک کرنے یا کم اہم ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔


اس کی سمجھ بوجھ پر اعتماد کریں۔ نئی ماؤں کو بغیر مانگے بے شمار مشورے ملتے ہیں، جس کی بجائے انہیں یہ احساس دلانے کی کی ضرورت ہوتی ہے کہ بطور ماں ان کے اپنے فیصلے پر اعتماد کیا جا رہا ہے اور ان کا ساتھ دیا جا رہا ہے۔
ایک نئی ماں سے آپ جو سب سے متاثر کن بات کہہ سکتے ہیں، وہ ہے، ’’مجھے تمہارا احساس ہے، میں تمہارے ساتھ ہوں، اور تم اکیلی نہیں ہو۔

‘‘
شوہر کے لیے ایک بات
پاکستان میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار کیا ہے، جس کی اہمیت سے کم لوگ واقف ہیں؟ یہ کوئی دوا یا کلینک نہیں۔ یہ شوہر ہے جو حال احوال پوچھتا ہے اور پھر بات سنتا ہے۔ تحقیق بار بار اسی نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شوہر کا مضبوط سہارا ماں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔

اور اس کا برعکس بھی اتنا ہی درست ہے۔ جب یہ سہارا موجود نہ ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بات واقعی اتنی ہی سادہ ہے۔ اس کے لیے ذہنی صحت کا ماہر ہونا ضروری نہیں؛ صرف ساتھ موجود ہونا ضروری ہے۔ روز اس کا حال پوچھیں۔ ذمہ داری بانٹیں۔ اسے بتائیں کہ وہ ٹھیک کر رہی ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جن ماؤں کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا سامنا ہوتا ہے، ان کے شریکِ حیات میں سے 50 فیصد تک خود بھی علامات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ایک صحت مند اور قریبی ازدواجی تعلق صرف ماں کے لیے نہیں، پورے خاندان کے لیے بہتر ہے۔
خاندان اور برادری وغیرہ کا کردار 
نئی ماؤں کو سہارا دینے کی ذمہ داری صرف ایک فرد کے کندھوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے پوری کمیونٹی کی ضرورت ہوتی ہے؛ خاندان، دوست، پڑوسی، آجر، اور وہ ادارے جو پاکستانی زندگی کے روزمرہ نظام کا حصہ ہیں۔

درحقیقت، دیہی پاکستان میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن ماؤں نے ’’چِلّہ‘‘کی روایت پر عمل کیا، یعنی زچگی کے بعد خاندان کی مدد سے 40 دن کا آرام کیا، ان میں شدید ڈپریشن کی شرح نمایاں طور پر کم تھی۔ خاندان کی جانب سے نئی ماں کی دیکھ بھال کرنا کوئی گھسی پٹی ثقافتی روایت نہیں۔ یہ طبی لحاظ سے بھی ایک بامعنی اقدام ہے۔
کسی نیٹ ورک کی اصل قدر ان سگنلز میں نہیں ہوتی جو وہ بھیجتا ہے، بلکہ ان زندگیوں میں ہوتی ہے جن میں وہ بامعنی تبدیلی لاتا ہے۔

جب ہم لوگوں کو جوڑنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب سب لوگ ہیں، ان ماؤں سمیت جو خاموشی سے اس انتظار میں ہیں کہ کوئی ان کی مدد کو پہنچے۔
ایک نئی ماں کا سہارا بننے کے لیے کامل منصوبے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف اس آمادگی کی ضرورت ہوتی ہے کہ آپ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔آپ چاہے ایک شخص ہیں یا سرکاری و کارپوریٹ ادارہ، آغاز یہیں سے کریں۔ باقی راستہ خود بنتا جائے گا۔