پینٹاگون نے پہلی بار خفیہ یوایف او فائلیں جاری کرنا شروع کر دیں

ہفتہ 9 مئی 2026 09:28

لاس اینجلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پی )، جنہیں عام طور پر یوایف او کہا جاتا ہے، سے متعلق “پہلے کبھی منظرِ عام پر نہ آنے والی” فائلیں جاری کرنا شروع کر دی ہیں۔شنہوا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے مطابق یہ ریکارڈ ایک سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب کیا جا رہا ہے، جبکہ مزید مواد مرحلہ وار جاری کیا جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں 161 فائلیں عوام کے لیے قابلِ رسائی بنا دی گئی ہیں، جن میں تصاویر، ویڈیوز، سرکاری دستاویزات اور عینی شاہدین کے بیانات شامل ہیں۔دستاویزات میں 1940 کی دہائی سے لے کر حالیہ برسوں تک دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے 400 سے زائد یوایف او واقعات کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ فائلیں امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ دفاع، ناسا، ایف بی آئی اور بیرونِ ملک امریکی سفارتی مشنز سمیت مختلف اداروں نے مرتب کی ہیں۔

(جاری ہے)

پینٹاگون نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام اب حکومت کی ڈی کلاسیفائیڈ یوایف او فائلوں تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے لیے کسی خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں۔محکمے کے مطابق جاری کردہ مواد میں کئی ایسے “غیر حل شدہ” واقعات شامل ہیں جن کی نوعیت کے بارے میں حکومت حتمی نتیجہ اخذ نہیں کر سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ ناکافی معلومات اور شواہد بھی ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ تمام مواد کا سکیورٹی جائزہ لیا جا چکا ہے، تاہم متعدد واقعات کا مکمل سائنسی تجزیہ ابھی باقی ہے۔ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ادارہ ان مظاہر کے مطالعے کے لیے سائنسی تحقیق اور ڈیٹا تجزیے پر انحصار جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق “ہم ان حقائق کے بارے میں واضح رہیں گے جو ہمیں معلوم ہیں، اور ان سوالات پر بھی کھل کر بات کریں گے جن کے جواب ابھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔

جاری کردہ دستاویزات میں اپالو 11، اپالو 12 اور اپالو 17 مشنز سے متعلق ریکارڈ بھی شامل ہے۔ اپالو 17 کے خلا بازوں نے اپنی رپورٹ میں خلائی جہاز کے قریب “انتہائی روشن ذرات یا ٹکڑوں” کو تیرتے ہوئے دیکھنے کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ یہ ممکنہ طور پر برف یا پینٹ کے ذرات ہو سکتے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق جاری شدہ فائلوں میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ امریکی حکومت کا کسی خلائی مخلوق سے رابطہ رہا ہے یا زمین پر غیر زمینی مخلوقات کی آمد کے شواہد ملے ہیں۔