ہنٹا وائرس: ٹیڈروز متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کے انخلاء کی نگرانی کرینگے

یو این اتوار 10 مئی 2026 06:45

ہنٹا وائرس: ٹیڈروز متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کے انخلاء کی نگرانی کرینگے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بحر اوقیانوس میں مسافر بردار جہاز پر ہنٹا وائرس پھیلنے کے تناظر میں جزائر کینیری کے علاقے ٹینیریفے میں لوگوں سے پرسکون رہنے اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا ہے جہاں اس جہاز کے مسافروں کو عارضی طور پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ وہ جہاز سے تقریباً 150 مسافروں اور عملے کے ارکان کو بحفاظت اتارنے کے عمل کی نگرانی کے لیے خود ٹینیریفے کا دورہ کریں گے۔

Tweet URL

اس جہاز پر ہنٹا وائرس سے متاثرہ تین افراد کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ پانچ جنوبی افریقہ اور سوئزرلینڈ سمیت مختلف مقامات پر زیرعلاج ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا ہے کہ لوگوں کے دل میں کووڈ وبا کا خوف اور اس سے لاحق ہونے والی تکالیف کی یاد تازہ ہے لیکن یاد رہے کہ ہنٹا وائرس کووڈ جیسا مرض نہیں اور اس کے لوگوں میں پھیلاؤ کا خطرہ بہت کم ہے۔

محفوظ راہداری کا انتظام

ٹینیریفے سپین کے زیرانتظام جزائر کینیری کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جہاں حکام نے اس وائرس کو مقامی آبادی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مضبوط حفاظتی منصوبہ تیار کیا ہے۔

نیدرلینڈز کے پرچم والا یہ جہاز اتوار کو گراناڈایا کی صنعتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا جو رہائشی علاقوں سے دور واقع ہے۔

جہاز کے مسافروں کو سخت حصار میں محفوظ گاڑیوں کے ذریعے ایک مکمل طور پر بند حفاظتی راہداری سے گزار کر براہ راست ان کے آبائی ممالک کو واپس بھیجا جائے گا۔ ڈائریکٹر جنرل نے جزیرے کے لوگوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا جہاز کے لوگوں سے سامنا نہیں ہو گا۔

'ڈبلیو ایچ او' کی جانب سے اس معاملے میں سپین سے مدد کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ کسی بھی عالمی ہنگامی طبی صورتحال میں قریبی اور مناسب طبی سہولیات رکھنے والی بندرگاہ امداد فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت

ڈائریکٹر جنرل نے سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز اور ٹینیریفے کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کی ہے۔

اس جزیرے کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہاں طبی صلاحیت، بنیادی ڈھانچہ اور انسانیت تینوں موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ خود ٹینیریفے جانا چاہتے ہیں تاکہ اس جزیرے کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کر سکیں جنہوں نے اس مشکل صورتحال میں وقار، یکجہتی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے عوام سے صحت عامہ کے اقدامات پر اعتماد رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس نہ سیاست کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی سرحدوں کی پروا کرتے ہیں اس لیے ان کے خلاف سب سے بڑی قوت مدافعت باہمی یکجہتی ہے۔