Live Updates

خطے میں کشیدگی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رہی، عوامی ریلیف کیلئے اقدامات جاری ہیں

بیرونی ادائیگی بروقت یقینی بنائی جارہی ہے، ہماری ایکسپورٹ میں سالانہ 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 9 مئی 2026 22:16

خطے میں کشیدگی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رہی، ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 09 مئی 2026ء ) وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، بیرونی ادائیگی بروقت یقینی بنائی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رہی۔وزیراعظم کی قیادت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، بیرونی ادائیگی بروقت یقینی بنائی جارہی ہے۔

ملکی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ہماری ایکسپورٹ میں سالانہ 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، فسکل ایئر میں ہماری جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد ہوگی۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود شہباز شریف کی ناکام حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی قابلِ مذمت اور عوام دشمن اقدام ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافہ کرکے اسے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ حکومت اپنی نااہلی اور ناکام معاشی پالیسیوں کی سزا غریب عوام کو دے رہی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایک طرف سی این جی بند ہے، دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ ایل پی جی سلنڈر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔

بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ عوام مہنگائی کے اس طوفان میں شدید پریشانی کا شکار ہیں اور یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں۔ مزید برآں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ آج پھر 15 ، 15 روپے فی لیٹر بڑھا دیے۔

حکومت نے پٹرول کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ عالمی مارکیٹ کا نام لیتے ہیں اور بھاری لیوی وصول کررہے ہیں جس کا پٹرولیم کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔اہم بات یہ ہے عالمی مارکیٹ میں چند دنوں میں تقریباً 8 ڈالر قیمت کم ہوئی ہے۔ اس وقت بھی فی لیٹر 150 روپے سے زائد ٹیکسز و لیوی وصول کی جارہی ہے۔ طالب علم، بائیکیا اور اِن ڈرائیو  چلانے والے، مزدور، عام غریب اور مڈل کلاس شہری یہ لیوی ادا کررہے ہیں جو بہت بڑا ظلم ہے۔

دوسری طرف حکمران طبقے کی  شاہ خرچیاں، مراعات، اربوں روپے کے جہاز، پروٹوکول سب اسی طرح جاری ہیں۔ یہ دوہرا اور طبقاتی نظام زیادہ عرصے نہیں چل سکتا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پرلیوی میں 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ، پیٹرول پر لیوی اضافے کے بعد 117روپے 41 پیسے فی لیٹرمقررکی گئی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کردی گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل پرفریٹ مارجن میں 9 روپے 38 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل پرفریٹ مارجن کم کرکے 7 روپے 75 پیسے کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی رہنما شہزاد اشرف بھٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہر ہفتے قیمتوں میں اضافہ ظلم ہے ، حکومت ٹیکسز کے ذریعے وصول کئے جانے والے اپنے منافع میں کمی کرے اور قیمتوں کو فی الفور واپس لیا جائے ۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات