Live Updates

‏عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جس دن کم ہوئی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے، وفاقی وزیرعلی پرویز ملک

muhammad ali محمد علی ہفتہ 9 مئی 2026 23:17

‏عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے
‏اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2026ء) وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جس دن کم ہوئی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیے جانے پر وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی، کاشتکاروں اور موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جس دن کم ہوئی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، ایران، قطر اور یو اے ای کے مشکل وقت میں تعاون پر مشکور ہیں۔

(جاری ہے)

صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے بھرپور رہنمائی کی، بجلی کی پیداواری لاگت کم سے کم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔

جبکہ وزیر پٹرولیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رہی۔وزیراعظم کی قیادت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، بیرونی ادائیگی بروقت یقینی بنائی جارہی ہے۔ ملکی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ہماری ایکسپورٹ میں سالانہ 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، فسکل ایئر میں ہماری جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد ہوگی۔

ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے عوام فی لٹر ایندھن پر بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور مختلف مارجنز کی صورت میں وصول کر رہی ہے، پٹرول کی اصل قیمت اس کی فروخت کی قیمت سے کہیں کم ہے، اسی طرح ڈیزل پر بھی بھاری ڈیوٹیز عائد ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں شامل ٹیکسز اور دیگر اخراجات نے اسے عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، ٹیکسز کے بغیر پٹرول کی فی لٹر قیمت صرف 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، حکومت فی لٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 198 روپے سے زائد کے ٹیکس وصول کر رہی ہے، قیمت میں 29 روپے فی لٹر پریمیم بھی شامل کیا گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اسی طرح ڈیزل جو ٹرانسپورٹ اور زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر بھی ٹیکسوں کی بھرمار ہے، ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکس شامل ہیں، ٹیکسوں کے بغیر ڈیزل کی قیمت تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے پٹرولیم لیوی اور 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قیمتوں میں کمپنیوں کے منافع اور دیگر لیویز کا حصہ بھی نمایاں ہے، ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں کمپنیوں کو 7.87 روپے اور منافع کی مد میں 8.64 روپے دیے جا رہے ہیں، مال برداری کے لیے 7.25 روپے فی لٹر وصول کیے جا رہے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کے نام پر ڈھائی روپے فی لٹر 'کلائمیٹ سپورٹ لیوی' بھی عوام کی جیب سے نکالی جا رہی ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات