عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جس دن کم ہوئی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے، وفاقی وزیرعلی پرویز ملک
محمد علی
ہفتہ 9 مئی 2026
23:17
(جاری ہے)
صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے بھرپور رہنمائی کی، بجلی کی پیداواری لاگت کم سے کم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔
جبکہ وزیر پٹرولیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رہی۔وزیراعظم کی قیادت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، بیرونی ادائیگی بروقت یقینی بنائی جارہی ہے۔ ملکی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ہماری ایکسپورٹ میں سالانہ 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، فسکل ایئر میں ہماری جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد ہوگی۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے عوام فی لٹر ایندھن پر بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور مختلف مارجنز کی صورت میں وصول کر رہی ہے، پٹرول کی اصل قیمت اس کی فروخت کی قیمت سے کہیں کم ہے، اسی طرح ڈیزل پر بھی بھاری ڈیوٹیز عائد ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں شامل ٹیکسز اور دیگر اخراجات نے اسے عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، ٹیکسز کے بغیر پٹرول کی فی لٹر قیمت صرف 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، حکومت فی لٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 198 روپے سے زائد کے ٹیکس وصول کر رہی ہے، قیمت میں 29 روپے فی لٹر پریمیم بھی شامل کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسی طرح ڈیزل جو ٹرانسپورٹ اور زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر بھی ٹیکسوں کی بھرمار ہے، ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکس شامل ہیں، ٹیکسوں کے بغیر ڈیزل کی قیمت تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے پٹرولیم لیوی اور 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قیمتوں میں کمپنیوں کے منافع اور دیگر لیویز کا حصہ بھی نمایاں ہے، ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں کمپنیوں کو 7.87 روپے اور منافع کی مد میں 8.64 روپے دیے جا رہے ہیں، مال برداری کے لیے 7.25 روپے فی لٹر وصول کیے جا رہے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کے نام پر ڈھائی روپے فی لٹر 'کلائمیٹ سپورٹ لیوی' بھی عوام کی جیب سے نکالی جا رہی ہے۔مزید اہم خبریں
-
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن بامعنی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے
-
معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر فیلڈ مارشل کی قوم کو مبارکباد
-
عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے
-
امریکا ایران تنازع کے پُرامن حل کیلئے پاکستان اپنی بھرپور کاوشیں جاری رکھے گا
-
خطے میں کشیدگی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رہی، عوامی ریلیف کیلئے اقدامات جاری ہیں
-
معرکہ حق کی کامیابی کاپہلاسال،افواج پاکستان کی قوم کومبارکباد
-
روس نے ایران کی مدد کیلئے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ فراہم کیا ہوا ہے
-
9 مئی کو سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی قرار دی
-
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا
-
عالمی منڈی میں پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود شہبازشریف حکومت کا قیمتوں میں اضافہ عوام دشمن اقدام ہے
-
مغربی کنارے میں پھنسے غزہ کے باسی جن کا ’اب پیچھے کوئی گھر باقی نہیں بچا‘
-
حکومت نے مسلسل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.