شہروں میں رہنے والے ہجرتی پرندوں کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

یو این اتوار 10 مئی 2026 10:30

شہروں میں رہنے والے ہجرتی پرندوں کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 مئی 2026ء) اس وقت جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو ہو سکتا ہے لاکھوں پرندے خاموشی سے آپ کے سروں کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ایک سے دوسرے علاقے میں جا رہے ہوں۔ ہر سال اربوں پرندے موسمی سختیوں سے بچنے اور خوراک کی تلاش میں ہجرت کرتے ہیں جن کے لیے ماحولیاتی نظام کا تحفظ انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔

آج دنیا بھر میں ہجرتی پرندوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

'ہر پرندہ اہم ہے، آپ کا مشاہدہ اہمیت رکھتا ہے' امسال اس دن کا خاص موضوع ہے جس کے تحت زور دیا گیا ہے کہ ہجرت کرنے والے پرندے اور ایسے ماحولیاتی نظام تحفظ کے حوالے سے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں جن پر ان کا دارومدار ہوتا ہے۔

اس موقع پر یو این نیوز نے امریکہ کے شہر نیویارک میں 'وائلڈ برڈ فنڈ' کی ڈائریکٹر اطلاعات کیتھریل کوئل سے ان پرندوں کے بارے میں خصوصی بات چیت کی۔

(جاری ہے)

وضاحت اور اختصار کے مقصد سے اس گفتگو کو مدون کیا گیا ہے۔

Wild Bird Fund/Rachel Frank کھڑکی سے ٹکرا کر زخمی ہونے والا بلیک اینڈ وائٹ واربلر صحت یاب ہو کر دوبارہ اڑنے کے لیے پر تول رہا ہے۔

۔

یو این نیوز: شہروں میں رہنے والے لوگوں کو عموماً یہ محسوس ہوتا ہے کہ جنگلی حیات ان سے بہت دور ہے۔ ایسے میں ہجرت کرنے والے پرندے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ کیسے ہیں؟

کیتھرین کوئل: اگر آپ کسی ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں درخت اور قدرے ہریالی موجود ہو اور چاہے وہ نیویارک کے مصروف علاقے مین ہٹن کے وسط میں ہی کیوں نہ ہو تو صبح جاگتے ہی آپ پرندوں کی آوازیں سن سکتے ہیں۔

سال بھر ان کے نغمے بدلتے رہتے ہیں۔ آپ کو اپنے گھر سے باہر نکلنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ صرف کھڑکی سے باہر دیکھ کرہی قدرتی تنوع کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

پرندے رات کے وقت بھی ہجرت کرتے ہیں۔ شام کے وقت آپ بگلوں یا سمندری پرندوں کو اپنی آرام گاہوں کی طرف جاتا دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ صبح سویرے یا شام کو آسمان کی جانب نظر اٹھائیں تو گھر بیٹھے بھی پرندوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

یو این نیوز: نیویارک سٹی 'اوقیانوس کے فضائی راستے' پر واقع ہے جو دراصل پرندوں کی ایک فضائی شاہراہ ہے۔ ہجرتی موسم کے عروج پر کتنے پرندے ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتے ہیں؟

کیتھرین کوئل: 'کارنیل لیبارٹری برائے علم الطیور' کا تیار کردہ 'برڈ کاسٹ' نامی آلہ موسمیاتی ریڈار کے ذریعے پرندوں کی ہجرت پر نظر رکھتا اور یہ بتاتا ہے کہ کون سے وقت کتنے پرندے پرواز کر رہے ہیں۔

ہجرت کی مصروف ترین راتوں میں امریکا کی فضا میں کئی ارب پرندے موجود ہو سکتے ہیں۔ صرف نیویارک شہر کے اوپر ایک رات میں 10 لاکھ تک پرندے گزر سکتے ہیں مگر عام طور پر ان کا یہ سفر اندھیرے میں ہوتا ہے، اس لیے زیادہ تر لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہو پاتا۔

Wild Bird Fund وائلڈ برڈ فنڈ کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر کیتھرین کوئل نیو یارک کے علاقے بروکلین میں ایک زخمی کبوتر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یو این نیوز: ہجرت کے دوران پرندوں کو کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

کیتھرین کوئل: ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ قدرتی مساکن کا ختم ہونا ہے۔ پرندے سال کے مختلف اوقات میں مخصوص خوراک کی تلاش میں ہجرت کرتے ہیں۔ نسل در نسل وہ جانتے آئے ہیں کہ موسم سرما میں کہاں جانا ہے۔ اس موسم میں وسطی امریکہ بھی ان کی منزل ہوتی ہے۔

اگر ان کے قدرتی مسکن کو ختم کر دیا جائے، وہاں تعمیرات کر دی جائیں یا جنگلات ختم ہو جائیں تو بہت سے پرندے اپنی منزل پر پہنچ کر زندہ نہیں رہ پاتے۔

نیویارک شہر میں ایک اور بڑا خطرہ شیشے کی کھڑکیاں ہیں۔ جدید عمارتوں میں شیشے کا استعمال بہت زیادہ ہو گیا ہے اور یہ پرندوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے جو ان سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یو این نیوز: کیا کچھ خاص عمارتیں یا مقامات پرندوں کے لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؟

کیتھرین کوئل: بلند و بالا عمارتیں پرندوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہیں جن کی تیز روشنیاں انہیں اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہجرت کے دوران بہت سے پرندے مین ہٹن کے مرکزی علاقوں میں آ جاتے ہیں جہاں شیشے کی دیواروں میں انہیں درختوں کے عکس دکھائی دیتے ہیں۔

روشنی اور شیشے کا یہ امتزاج ان پرندوں کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔

گھروں میں بھی ان کے لیے خطرات ہوتے ہیں۔ خاص طور پر درختوں یا دانہ ڈالنے والی جگہوں کے قریب موجود کھڑکیوں میں عکس کے باعث پرندوں ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ درحقیقت، پرندوں کو زیادہ تر حادثات گھروں میں ہی پیش آتے ہیں۔ لیکن ان کا زیادہ تذکرہ نہیں ہوتا کہ ایسے ہر واقعے میں ایک یا دو پرندے متاثر ہوتے ہیں جبکہ مین ہٹن کے مرکز میں درجنوں پرندے ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔

ہجرت کرنے والے پرندے خاص طور پر خطرے میں ہوتے ہیں کیونکہ وہ رات کے وقت تھکے ماندے، الجھن کا شکار اور اجنبی علاقوں میں پہنچتے ہیں۔

Wild Bird Fund/Terria Clay نیو یارک میں شیشے کی ایک کھڑکی سے ٹکرا کر زخمی ہونے والے اس ننھے پرندے کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔

یو این نیوز: پرندوں کے تحفظ کے لیے ہم روزمرہ زندگی میں کیا کر سکتے ہیں؟

کیتھرین کوئل: اس کے لیے ضروری ہے کہ رات کے وقت بیرونی روشنیاں بند رکھی جائیں تاکہ آسمان نسبتاً تاریک رہے اور پرندے روشنی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ چھوٹی آبادیوں میں اگر لوگ روشنیاں بند کر دیں تو اس سے بڑا فرق پڑتا ہے۔

ایک اور بہتر کام یہ ہے کہ اپنے باغ یا صحن میں مقامی پودے اگائیں۔ تحقیق کریں کہ آپ کے علاقے میں مقامی پودے کون سے ہیں اور پھر گھر کا کچھ حصہ انہی کے لیے مخصوص کریں تاکہ کیڑے مکوڑے اور پرندے اس جانب متوجہ ہوں۔

یو این نیوز: کیا آپ ہمیں ہجرتی پرندوں کو خطرے سے بچانے کے حوالے سے اپنا کوئی یادگار واقعہ سنا سکتی ہیں؟

کیتھرین کوئل: جب میں اپنے گھر کے قریبی پارک میں پرندے دیکھنے جاتی ہوں تو راستے میں کئی ایسی عمارتیں آتی ہیں جہاں پرندوں کے کھڑکیوں سے ٹکرانے کے واقعات عام ہیں۔

میں ہجرت کے موسم میں میں زخمی پرندوں پر نظر رکھتی ہوں۔

ایک مرتبہ میں نے ایک شیشے والے پل کے نیچے سڑک پر ایک پرندہ سڑک پر پڑا دیکھا۔ ایسے پل خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ پرندے ان کا اندازہ نہیں لگا پاتے اور شیشے سے ٹکرا جاتے ہیں۔

میں بھاگ کر پل سے نیچے گئی اور پرندے کو اٹھا لیا۔ چند ہی لمحوں بعد ایک گاڑی اسی جگہ سے گزری جہاں وہ پڑا تھا۔

وہ نہایت خوبصورت زرد پروں والا سکارلٹ ٹینیجر تھا۔ بعد میں اس کا علاج کرنے کے بعد اسے آزاد کر دیا گیا۔ اگر میں اسے نہ اٹھاتی تو یقیناً وہ گاڑی کے نیچے آ کر کچلا جاتا۔

© Wikimedia/Félix Uribe کولمبیا کے ایک جنگل میں سکارلیٹ ٹنیجر نامی پرندہ۔

یو این نیوز: جن لوگوں کو بظاہر پرندوں سے دلچسپی نہیں ہے وہ انہیں دیکھنے اور ان کے تحفظ کے لیے کوششوں کی ابتدا کیسے کریں؟

کیتھرین کوئل: سب سے پہلے اپنے اردگرد موجود پرندوں پر توجہ دینا شروع کریں جب آپ باہر جائیں تو دیکھیں اور سنیں کہ کون سے پرندے موجود ہیں۔ جب آپ ان پر دھیان دیں گے تو آپ کا تجسس بڑھے گا۔

اس طرح ممکن ہے کہ آپ دوربین خرید لیں یا کسی برڈ واک میں شامل ہو جائیں۔

ہجرت کے موسم میں مقامی پارکوں میں برڈ واک بلامعاوضہ منعقد کی جاتی ہیں جن کی قیادت ماہرین کرتے ہیں اور وہ واقعی بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔

کئی برس پہلے جب میں پہلی مرتبہ دوربین لے کر سنٹرل پارک میں گئی اور ان پرندوں کو دیکھنا شروع کیا جن پر پہلے کبھی میری نظر نہیں پڑی تھی تو میں حیران رہ گئی۔ اس کے بعد میں پرندوں کے حوالے سے بہت پرجوش ہو گئی اور آج سے 25 سال پہلے کی بات ہے۔ تب سے پرندوں کا مشاہدہ اور ان کی نگہداشت میرا شوق بن گیا ہے۔