ایمان مزاری اس ملک کی بیٹی ہے، سپریم کورٹ کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو 2 ہفتوں میں فیصلے کا حکم

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف درج مقدمات کی منسوخی اور ضمانت سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 مئی 2026 11:43

ایمان مزاری اس ملک کی بیٹی ہے، سپریم کورٹ کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیلوں پر اہم سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کا حکم دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف درج مقدمات کی منسوخی اور ضمانت سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، 3 رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس شاہد وحید نے کی، ان کے ساتھ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شفیع صدیقی بھی موجود تھے۔

سماعت کے آغاز پر وکیل درخواستگزار ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ ’دو درخواستیں آپ کے سامنے زیر التوا ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ مقدمے کو لٹکا رہا ہے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف جھوٹا ٹرائل چلا اور سزا ہوئی‘، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ’بے شک جھوٹا ٹرائل ہوگا لیکن ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس زیر التوا ہے، نوٹس جاری ہو چکا ہے‘، فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’مخصوص حالات میں ریلیف کا راستہ نکل سکتا ہے، میں 60 دن کے انتظار کے بعد آپ کے سامنے آج پیش ہو رہا ہوں‘۔

(جاری ہے)

انہوں نے دلائل میں کہا کہ ’ایمان مزاری کو فروری میں سزا ہوئی، دو مرتبہ جسٹس ڈوگر کے سامنے میری جلد سماعت کی درخواست گئی لیکن انہوں نے مسترد کر دی کہ یہ کیس تو پہلے سے زیر التوا ہے، میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے‘، جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ ’کیا آپ خوش ہوں گے کہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کو کیس سننے کے احکامات دے دیں، ابھی آپ کے خلاف ہائیکورٹ سے کوئی متضاد فیصلہ نہیں آیا، ابھی آپ کی سزا معطلی کی درخواست زیر التوا ہے‘۔

جسٹس شفیع صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ ’ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے، فی الحال سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں کہ سزا معطلی پر فیصلہ کرے، اگر ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کو احکامات دے دیں کہ وہ مرکزی اپیل پر فیصلہ کر دیں؟‘، فیصل صدیقی نے کہا کہ ’میرا سزا معطلی کا حق مرکزی اپیل سے پہلے ہے‘، جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ ’ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کو 2 ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیتے ہیں‘ فیصل صدیقی نے کہا کہ ’2 ہفتے نہیں 7 دن میں فیصلہ کرنے کے احکامات دیں، کیوں کہ پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے‘۔

اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کو ضابطہ فوجداری سیکشن 426 پڑھنے کا حکم دیا، فیصل صدیقی نے سیکشن 426 پڑھا جس کے تحت اگر سزا معطلی کی درخواست میں قانونی تاخیر ہو اور سزا کا دورانیہ 7 سال سے زیادہ ہو تو سزا یافتہ شخص 2 سال بعد ضمانت کا حقدار ہو سکتا ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ’آپ کو تو ابھی درخواست دائر کیے 60 دن ہوئے ہیں‘، فیصل صدیقی نے کہا کہ ’60 دن ہوئے لیکن میں تو قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا تقاضہ نہیں کر رہا بلکہ میری درخواست تو حالات کا عبوری جائزہ اور ایمان مزاری و ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا میں شکوک و شبہات کی بنیاد پر ضمانت کا ہے‘۔

جسٹس شفیع صدیقی نے کہا کہ ’یہ تعین تو اسلام آباد ہائیکورٹ کرے گی کہ فیصلہ درست تھا یا غلط تھا‘، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ’سپریم کورٹ براہ راست میرٹس پر نہیں جا سکتی‘، فیصل صدیقی نے کہا کہ ’اسلام آباد میں یہی عدالت بچی ہے میں اور کہاں جاوں؟‘، اس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ’دو راستے ہیں، اول یہ کہ ہم درخواست نمٹا دیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو احکامات دے دیں کہ دو ہفتے میں فیصلہ کرے، دوم یہ کہ ہم درخواست زیر التوا رکھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دے دیں کہ دو ہفتے میں فیصلہ کرے‘۔

اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ ’دوسرا آپشن ٹھیک ہے، یقین ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ درخواستیں مسترد ہی کرے گی لیکن کم از کم فیصلہ تو دے، سپریم کورٹ کا سایہ ہو گا تو فیصلہ ہو جائے گا‘، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ’اب دو سائے ہیں، ایک سپریم کورٹ اور دوسرا وفاقی آئینی عدالت، تمام وکلاء جا کر آئینی عدالت میں بھی پیش ہوتے ہیں، پارلیمنٹ نے یہ عدالت بنائی ہے اس کا احترام ہونا چاہیئے‘۔

بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو پابند کیا ہے کہ وہ ان اپیلوں پر 2 ہفتوں کے اندر حتمی فیصلہ سنائے، سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیئے کہ ایمان مزاری اس ملک کی بیٹی ہے، کسی بھی شہری کی آزادی اور قانونی حقوق سے متعلق معاملات میں تاخیر انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ اپیلیں گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جس پر اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔