فلپائن کے سابق صدر ڈوٹیرٹے کا ساتھی بھی مطلوب، آئی سی سی کی تصدیق

یو این منگل 12 مئی 2026 01:15

فلپائن کے سابق صدر ڈوٹیرٹے کا ساتھی بھی مطلوب، آئی سی سی کی تصدیق

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2026ء) عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے فلپائن کے سابق صدر راڈریگو ڈوٹیرٹے کے قریبی ساتھی اور سینیٹر رونلڈ ڈیلا روزا کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ وہ سابق صدر کی منشیات کے خلاف مہم کے نگران تھے جس میں مبینہ طور پر سیکڑوں افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیا گیا۔

رونلڈ ڈیلا روزا کے خلاف وارنٹ 6 نومبر 2025 کو خفیہ طور پر جاری کیے گئے تھے جنہیں اب سامنے لایا گیا ہے۔

ان پر فلپائن میں انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے جو کم از کم 3 جولائی 2016 سے اپریل 2018 کے اختتام تک کیے گئے اور اس دوران کم از کم 32 افراد قتل ہوئے۔

Tweet URL

جج یولیا انتوانیلا موتوک، رین ایڈیلیڈ سوفی الاپینی-گانسو اور ماریا ڈیل سوکوررو فلوریس لیرا پر مشتمل چیمبر نے استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ قتل کے جرم میں فوجداری طور پر ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ ذمہ داری میثاق روم کے آرٹیکل 25 (3) (اے) کے تحت عائد ہوتی ہے۔

ڈیلا روزا پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے مشترکہ منصوبے کا حصہ تھے جو تقریباً یکم نومبر 2011 سے 16 مارچ 2019 تک جاری رہا اور اس کا مقصد فلپائن میں مبینہ مجرموں کو قتل کرنا تھا جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں منشیات کے استعمال، فروخت یا تیاری سے وابستہ سمجھا جاتا تھا یا ان پر ایسا الزام تھا۔

مقدمے کا پس منظر

15 ستمبر 2021 کو 'آئی سی سی' کے پری ٹرائل چیمبر اول نے استغاثہ کو فلپائن میں یکم نومبر 2011 سے 16 مارچ 2019 کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والے ان جرائم کی تحقیقات شروع کرنے کی اجازت دی تھی جو منشیات کے خلاف جنگ نامی مہم کے تناظر میں کیے گئے تھے۔

یہ اجازت استغاثہ کی اُس درخواست کے بعد دی گئی جو ابتدائی طور پر 24 مئی 2021 کو جمع کرائی گئی تھی جبکہ اسے عوامی اور ترمیم شدہ صورت میں 14 جون 2021 کو پیش کیا گیا۔

عدالت کو اس درخواست کے حوالے سے متاثرین یا ان کے نمائندوں کی آرا بھی موصول ہوئی تھیں۔

عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ججوں نے فلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے پر انسانیت کے خلاف جرائم کے تمام الزامات کی توثیق کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ عدالت کے پری ٹرائل چیمبر اول نے ان کےخلاف اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایسے معقول اور مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ڈوٹیرٹے میثاق روم کی شق 7 کے تحت قتل اور قتل کی کوشش کے جرائم کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

'آئی سی سی' کے قواعد کے مطابق جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اسے منصفانہ اور کھلی سماعت کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔