یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری

DW ڈی ڈبلیو منگل 12 مئی 2026 13:40

یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 مئی 2026ء) یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ پابندیاں اس سے قبل ہنگری کی سابق حکومت کی مخالفت کے باعث رکی ہوئی تھیں، تاہم گزشتہ ماہ کے انتخابات میں وزیر اعظم وکٹر اوربان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یورپی یونین کے لیے اس معاملے پر پیش رفت ممکن ہو سکی۔

یہ اقدامات مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے حملوں کے ردعمل میں تیار کیے گئے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق حماس کے اہم رہنماؤں کے خلاف نئی پابندیوں پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا کہ یورپی یونین ان اسرائیلی تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو مغربی کنارے میں "انتہا پسندانہ اور پرتشدد آبادکاری" کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے یورپی یونین کے فیصلے کو "من مانا اور سیاسی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی شہریوں اور تنظیموں کو ان کے سیاسی خیالات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پابندیوں کے تحت تین آبادکاروں اور چار تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ یورپی یونین اس سے قبل بھی 2024 میں بعض اسرائیلی آبادکاروں پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کر چکی ہے۔

کئی یورپی ممالک اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ سویڈن کی وزیر خارجہ نے ان مصنوعات پر محصولات عائد کرنے اور ان اسرائیلی وزرا پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، جو ان بستیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشتگردانہ حملوں کے بعد مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس اب تک مغربی کنارے میں 45 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز