Live Updates

ایران کے ساتھ فائر بندی ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے، صدر ٹرمپ

DW ڈی ڈبلیو منگل 12 مئی 2026 14:20

ایران کے ساتھ فائر بندی ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے، صدر ٹرمپ
  • لکی مروت میں خودکش حملہ، دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک
  • ایران کے ساتھ فائر بندی ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے، صدر ٹرمپ

لکی مروت میں خودکش حملہ، دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک

منگل کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ضلع پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے میں مزید 23 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ایک خودکش بمبار نے بارودی مواد سے بھرے تین پہیوں والے رکشے کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کر کے کم از کم سات افراد کو ہلاک اور 23 کو زخمی کر دیا۔

سینئر پولیس افسر محمد سجاد خان نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق مشتبہ خودکش حملہ آور نے چیک پوسٹ پر تعینات دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

(جاری ہے)

‘‘

یہ دھماکہ اس واقعے کے چند روز بعد پیش آیا ہے، جب ہفتے کی شب ایک اور خودکش حملے میں بنوں میں ایک چیک پوسٹ پر کار بم حملے اور شدت پسندوں کی پولیس پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقع پر ردعمل کے طور پر اسلام آباد نے پیر کے روز ملک میں تعینات افغانستان کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کرکے ایک بار پھر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اپنے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان ناظم الامور کو طلب کیا گیا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ اس واقعے کی تفصیلی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ افغانستان میں مقیم دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت کیا۔

افغانستان کی طالبان حکومت بارہا پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ افغان سرزمین شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات مہلک مسلح تصادم میں بدل چکے ہیں، جن میں افغانستان کے شہروں پر پاکستانی فضائی حملے بھی شامل ہیں۔


ایران کے ساتھ فائر بندی ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے جواب نے سات اپریل سے جاری فائر بندی کی حیثیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میں اسے اس وقت سب سے کمزور قرار دوں گا، خاص طور پر وہ کچرا پڑھنے کے بعد جو انہوں نے ہمیں بھیجا۔ میں نے تو اسے مکمل پڑھنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔" ٹرمپ اس سے پہلے بھی کئی بار فائر بندی ختم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

امریکہ نے تجویز دی تھی کہ پہلے لڑائی ختم کی جائے، اس کے بعد متنازع امور، بشمول ایران کے جوہری پروگرام، پر بات چیت شروع کی جائے۔

ایران نے تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے، جہاں امریکہ کے اتحادی اسرائیل کی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری، جنگی نقصانات کے ازالے کے مطالبات اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سمیت دیگر شرائط پیش کیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے بتایا گیا کہ ایرانی تجویز میں اس کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق کچھ رعایتیں شامل تھیں، تاہم واشنگٹن نے اسے ناکافی قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی تعطل اور حالیہ جھڑپوں کے تبادلے کے باعث مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کھلی جنگ کی طرف جا سکتا ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور امریکی ناکہ بندی برقرار ہے۔

ادھر پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے بدستور سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ علاقائی سفارت کاروں کے مطابق اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی تیاری کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے اور وسیع مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی

امریکہ میں کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ جنگ امریکی ووٹرز میں غیر مقبول ہے، جو ملک گیر انتخابات سے چھ ماہ سے بھی کم عرصہ قبل ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان انتخابات میں فیصلہ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے اس سروے کے مطابق تین میں سے دو امریکی، جن میں ایک تہائی ریپبلکن اور تقریباً تمام ڈیموکریٹس شامل ہیں، سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ امریکہ جنگ میں کیوں داخل ہوا۔

ادارت: شکور رحیم

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات