Live Updates

ڈونلڈ ٹرمپ کے چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کیلئے پاکستان میں قیام کا امکان ہے، خواجہ آصف

پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم سٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے؛ وزیر دفاع کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 مئی 2026 13:30

ڈونلڈ ٹرمپ کے چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کیلئے پاکستان میں قیام کا امکان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کے لیے پاکستان میں قیام کریں۔ ہم نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے وہ تاریخی سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، پاکستان نے اللہ کے فضل سے دشمن کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ جیتی ہے جس کا اعتراف پوری دنیا بشمول امریکی صدر نے کیا ہے، جنہوں نے متعدد بار بھارت کو اس کے ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان اور تباہ شدہ طیاروں کی یاد دہانی کرائی۔

خواجہ آصف کہتے ہیں کہ یہ فتح اتنی واضح تھی کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کا قد کاٹھ نمایاں طور پر بلند ہوا ہے، پاکستان کا عالمی تشخص اب مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ ماضی میں جس ملک پر روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے تھے، آج وہی پاکستان خطے میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور جنگوں کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم سٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس پائیدار امن کے ثمرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، شام اور مصر سمیت پوری مسلم امہ تک پہنچیں گے اور خطے کے عوام سکھ کا سانس لیں گے، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے باہمی تعاون سے پاکستان ایک نئی سمت میں گامزن ہے، پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کی قربانیوں کی بدولت ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا، ایسی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک مزید دشمنی یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی فراہمی کے بحران نے معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، اب یورپ کے رویے میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ دشمنی کے بجائے مفاہمت اور امن کی بات کر رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، پاکستان اب ایک محفوظ متبادل تجارتی اور سفارتی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے اور دشمنیوں کے اس خاتمے سے ملک و قوم کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات