پنجاب میں پراپرٹی کی دستاویزات کے حصول کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازمی کرنے کا فیصلہ

اس نئے قانون کا مقصد جائیداد کے معاملات میں ہونے والے فراڈ، جعلی دستخطوں اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ ہے، رجسٹریشن ایکٹ 2026ء حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 مئی 2026 14:01

پنجاب میں پراپرٹی کی دستاویزات کے حصول کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازمی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) پنجاب حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت اور دستاویزات کی رجسٹریشن کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے اب جائیداد سے متعلقہ دستاویزات کے حصول اور منتقلی کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی سے کثرتِ رائے سے منظور ہونے والا "رجسٹریشن ایکٹ 2026ء" حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال کر دیا گیا ہے، اس نئے قانون کا مقصد جائیداد کے معاملات میں ہونے والے فراڈ، جعلی دستخطوں اور غیر قانونی قبضوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس بل کے ذریعے برطانوی دور کے رجسٹریشن ایکٹ 1908ء میں ترمیم کی گئی ہے، 118 سال پرانے اس قانون میں اب بائیو میٹرک تصدیق کی نئی شق شامل کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب صرف کاغذی کارروائی یا گواہوں کے بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ فریقین کی موقع پر ڈیجیٹل تصدیق ضروری ہوگی۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ جائیدادوں کی رجسٹری اور ان سے منسلک تمام اشیاء جن کی رجسٹریشن قانوناً لازم ہے، ان کے لیے بائیو میٹرک تصدیق اب لازمی جزو ہوگی، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک جدید "الیکٹرانک ریکارڈ سسٹم" تشکیل دے، جو نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا، اس نظام کے نفاذ سے بیوہ خواتین، سمندر پار پاکستانیوں اور بزرگ شہریوں کی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

بتایا جارہا ہے کہ گورنر پنجاب کی جانب سے دستخط ہوتے ہی یہ ایکٹ فوری طور پر پورے صوبے میں نافذ العمل ہو جائے گا، محکمہ مال اور لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے اس حوالے سے تکنیکی انتظامات مکمل کرنا شروع کر دیئے ہیں تاکہ رجسٹرار دفاتر میں بائیو میٹرک مشینیں اور ڈیجیٹل سسٹم نصب کیے جا سکیں، جس کے نتیجے میں کسی کی موجودگی کے بغیر جائیداد منتقل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔