خریدار نیک نیتی، مناسب تحقیق اور سابقہ معاہدے سے لاعلمی ثابت کرنے میں ناکام رہے تو وہ کسی بھی قانونی تحفظ کا مستحق نہیں رہتا، سپریم کورٹ

منگل 12 مئی 2026 14:46

خریدار نیک نیتی، مناسب تحقیق اور سابقہ معاہدے سے لاعلمی ثابت کرنے میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر بعد میں جائیداد خریدنے والا قانون کے مطابق اپنی نیک نیتی، مناسب تحقیق اور سابقہ معاہدے سے لاعلمی ثابت کرنے میں ناکام رہے تو وہ کسی بھی قانونی تحفظ کا مستحق نہیں رہتا۔سپریم کورٹ نے اسی اصول کو بنیاد بناتے ہوئے جائیداد کے تنازعے سے متعلق تمام اپیلیں خارج کر دیں اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سول اپیل نمبر 168-L آف 2014 سمیت دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت کی۔عدالت نے قرار دیا کہ زیرِ بحث جائیداد کے اصل مالکان نے ابتدائی معاہدۂ فروخت کو تسلیم کیا تھا، جبکہ بعد میں دعویٰ کرنے والے خریدار یہ ثابت نہ کر سکے کہ انہوں نے خریداری کے وقت کسی سابقہ معاہدے یا تنازعے سے لاعلمی میں اور مکمل نیک نیتی کے ساتھ لین دین کیا۔

(جاری ہے)

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قانون کے تحت بعد میں جائیداد حاصل کرنے والے فریق پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف نیک نیتی ثابت کرے بلکہ یہ بھی دکھائے کہ اس نے جائیداد کے عنوان (ٹائٹل) کے بارے میں مناسب اور معقول تحقیق کی، تاہم موجودہ کیس میں یہ معیار پورا نہیں کیا جا سکا۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب ابتدائی خریدار کا حق قانون کے مطابق ثابت ہو جائے اور بعد میں منتقل ہونے والا عنوان شفاف نہ ہو تو پھر بعد کے خریدار اس سے کوئی بہتر حق حاصل نہیں کر سکتے۔

عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا اور تمام اپیلیں خارج کر دیں۔مزید برآں، زیر التوا امپلیڈمنٹ اور حکم امتناع کی درخواستیں بھی اپیلوں کے فیصلے کے بعد غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی گئیں۔