ثبوت کے بغیر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، سپریم کورٹ کا خیبرپختونخوا پولیس اہلکار کی بحالی کا حکم

منگل 12 مئی 2026 14:47

ثبوت کے بغیر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، سپریم کورٹ کا خیبرپختونخوا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب تک کسی سرکاری ملازم کے خلاف ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں، اس کے خلاف دی گئی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔عدالتِ عظمیٰ نے اسی اصول کے تحت خیبرپختونخوا فرنٹیئر ریزرو پولیس کے کانسٹیبل امیر وسیم کی ملازمت سے برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی بحالی کا حکم دے دیا۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا۔تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ محکمانہ انکوائری کے دوران ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جو درخواست گزار کو جعلی تبادلہ و تعیناتی آرڈر کے اجرا سے براہِ راست منسلک کرتے ہوں، جبکہ محض درخواست یا انتظامی عمل میں موجودگی کو بدعنوانی کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کی جانب سے دی گئی سزا میں نرمی کے باوجود جب بنیادی الزام ہی ثابت نہ ہو تو کوئی بھی سزا قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتی۔عدالت نے قرار دیا کہ انکوائری رپورٹ میں بھی درخواست گزار کا مبینہ جعلی آرڈر سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، لہٰذا اس کے خلاف کی گئی کارروائی قانون کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کانسٹیبل امیر وسیم کو بحال کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ ملازمت سے باہر رہنے کی مدت کو بغیر تنخواہ رخصت تصور کیا جائے۔