کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر پابندی عائد، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کی منظوری

کسی بھی سیلر یا ادارے کو پہلی مرتبہ قانون توڑنے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جرم کو دہرانے کی صورت میں جرمانے کی رقم بڑھا کر ایک لاکھ روپے تک کر دی جائے گی

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 مئی 2026 16:36

کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر پابندی عائد، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں ..
 اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) قومی اسمبلی نے ملک کے دارالحکومت کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’’اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (کتابوں کے پلاسٹک کور پر پابندی) ایکٹ 2026ء‘‘ کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی ہے، اس قانون کے تحت تعلیمی اداروں اور مارکیٹوں میں کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر مکمل پابندی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک منفرد قانون نافذ کر دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کی جانب سے پیش کردہ یہ بل سینیٹ سے منظوری کے بعد اب قومی اسمبلی سے بھی پاس ہو گیا، جس کا مقصد سکولوں میں کتابوں پر پلاسٹک چڑھانے کے غیر ضروری رجحان کو ختم کرنا ہے۔ بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں پلاسٹک کور والی کتابوں کی فروخت یا تقسیم سنگین خلاف ورزی تصور کی جائے گی، کسی بھی سیلر یا ادارے کو پہلی مرتبہ قانون توڑنے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جرم کو دہرانے کی صورت میں جرمانے کی رقم بڑھا کر ایک لاکھ روپے تک کر دی جائے گی۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کے مجاز افسران کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جن کے تحت افسران تعلیمی اداروں اور دکانوں کا موقع پر معائنہ کر سکیں گے، ممنوعہ پلاسٹک مواد کو ضبط کرنے اور فوری جرمانہ کرنے کا اختیار بھی افسران کے پاس ہوگا، قانون میں بعض صورتوں میں نرمی بھی رکھی گئی ہے تاکہ ضروری حفاظتی اقدامات متاثر نہ ہوں۔

بتایا گیا ہے کہ ماحول دوست مواد سے بنے کورز پر پابندی نہیں ہوگی، تاریخی اور نایاب کتابوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے حفاظتی کورز کو استثنیٰ حاصل ہوگا، کتابوں کی اپنی ہارڈ بائنڈنگ اس پابندی کے زمرے میں نہیں آئے گی، یہ بل تعلیمی سال کے آغاز پر پلاسٹک کے وسیع پیمانے پر استعمال کو روکنے کے لیے لایا گیا ہے، ماہرینِ ماحولیات نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے نان بائیو ڈی گریڈ ایبل فضلے میں کمی لانے کے لیے ایک بہترین کوشش قرار دیا۔