لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں کینسر سے بچاؤ کی 2 ادویات جعلی نکلیں

جعلی ادویات کا یہ سکینڈل اُس وقت منظرِعام پر آیا جب سینئر طبی ماہرین نے ادویات کے نتائج اور ان کی ظاہری پیکنگ پر شک کا اظہار کیا، ابتدائی جانچ پڑتال میں ادویات کی پیکنگ، لیبلنگ اور بار کوڈز میں واضح فرق پایا گیا

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 مئی 2026 17:22

لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں کینسر سے بچاؤ کی 2 ادویات جعلی نکلیں
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں کینسر جیسی مہلک بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کینسر کی دو اہم ادویات کو جعلی قرار دے کر مارکیٹ سے فوری طور پر ہٹانے کی وارننگ جاری کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور کے ہسپتالوں میں مریضوں کو دی جانے والی کینسر کی دو ادویات اصل نہیں بلکہ جعلی ہیں، اس انکشاف نے طبی حلقوں اور مریضوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا، جعلی ادویات کا یہ سکینڈل اس وقت منظرِ عام پر آیا جب لاہور کے سینئر طبی ماہرین نے ادویات کے نتائج اور ان کی ظاہری پیکنگ پر شک کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ ڈریپ حکام کی ابتدائی جانچ پڑتال میں ادویات کی پیکنگ، لیبلنگ اور بار کوڈز میں واضح فرق پایا گیا، جب یہ معاملہ متعلقہ غیر ملکی ادویہ ساز کمپنی کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے باقاعدہ تصدیق کی کہ یہ مخصوص بیچز ان کی فیکٹری سے تیار کردہ نہیں بلکہ ان کی نقل تیار کی گئی ہے، ڈریپ نے اس سنگین غفلت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے تمام ہسپتالوں اور فارمیسیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان ادویات کے مشکوک سٹاک کا استعمال فوری روک دیا جائے۔

حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ جعلی ادویات کس ذریعے سے ہسپتالوں تک پہنچیں، ان ڈسٹری بیوٹرز اور عناصر کا تعین کیا جا رہا ہے جو انسانی جانوں سے کھیلنے کے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کی جعلی ادویات ناصرف مرض کو روکنے میں ناکام رہتی ہیں بلکہ ان میں موجود نامعلوم کیمیکلز مریض کے جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، جو موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔