حکومت نے علاج پر مبنی نظام سے ہٹ کر بیماریوں سے بچا ئوپر مرکوز حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کرلیا ، سید مصطفی کمال

منگل 12 مئی 2026 17:20

حکومت نے علاج پر مبنی نظام سے ہٹ کر بیماریوں سے بچا ئوپر مرکوز حکمتِ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ آبادی تقریباً 24کروڑ تک پہنچ چکی ہے ، ہر سال لاکھوں بچوں کی پیدائش صحت کے نظام پر دبا ئومیں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جس کے باعث روایتی انداز میں صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور ادویات کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا، اگر بڑی تعداد میں لوگ بیک وقت بیمار ہوں تو دنیا کا کوئی بھی ملک اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا، جیسا کہ کوویڈ-19 کے دوران دیکھا گیا جب ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظام بھی شدید دبا ئوکا شکار ہو گئے، اس تناظر میں پاکستان کے صحت کے نظام کو سک کیئر سے ہیلتھ کیئر یعنی بیماری کے بعد علاج کی بجائے بیماری سے پہلے بچا ئوکی جانب منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

وہ پاک چائنہ فارماسیوٹیکل انویسٹمنٹ کے حوالے سے تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔وفاقی وزیر سید مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی اور صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر حکومت نے علاج پر مبنی نظام سے ہٹ کر بیماریوں سے بچا ئوپر مرکوز حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، حکومت نے ماہرین اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مشاورت سے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی ہے جس کے تحت صحت کے نظام کو ہسپتالوں کی حدود سے باہر نکال کر بنیادی سطح پر مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، اس میں خاندانی منصوبہ بندی، پیدائش میں مناسب وقفہ، صاف پانی کی فراہمی، حفاظتی ٹیکہ جات، متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ادویات اور علاج کے شعبے میں تحقیق کے فروغ کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے جہاں خوراک، غذائیت اور پودوں سے حاصل ہونے والی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان میں ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے جو روایتی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات کی سائنسی جانچ، کلینیکل ٹرائلز اور معیار کو یقینی بنانے میں معاونت فراہم کرے گا تاکہ صارفین اور صنعت دونوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

تقریب سے خطاب کے دوران ممتاز سائنسدان اقبال چوہدری کی خدمات کو بھی سراہا گیا اور انہیں پاکستان میں سائنسی تحقیق اور جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیا گیا۔ پاکستان کے پاس اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں اور ٹرائل اینڈ ایرر کی پالیسی ناقابلِ عمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازی میں ابتدا ہی سے درست سمت کا تعین ناگزیر ہے تاکہ قیمتی وقت اور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

مزید برآں دنیا بھر میں فروغ پانے والے لائف سٹائل میڈیسن کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خوراک، غذائیت اور روایتی طریقہ علاج جیسے جڑی بوٹیوں، چینی اور یونانی طب کو جدید سائنسی بنیادوں پر فروغ دیا جا رہا ہے اور پاکستان بھی اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔تقریب کے اختتام پر مقررین نے پاکستان کے عالمی کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے جس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے قومی قیادت خصوصا وزیراعظم محمد شہباز شریف ،آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے اور دنیا کی نظریں اس پر مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی توجہ کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں لہذا یہ وقت صرف کامیابیوں پر خوش ہونے کا نہیں بلکہ سنجیدگی، حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی نظام کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اور مثر کردار ادا کرتا رہے گا۔