معاشی عدم مساوات کا بچپن سے اعلیٰ تعلیم تک زندگی کے ہر موڑ پر گہرا اثر

یو این بدھ 13 مئی 2026 22:00

معاشی عدم مساوات کا بچپن سے اعلیٰ تعلیم تک زندگی کے ہر موڑ پر گہرا اثر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے خبردار کیا ہے کہ معاشی ناہمواری بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے مواقع کو نقصان پہنچاتی ہے اور یہ مسئلہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

دونوں اداروں کی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں سکولوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم دنیا کے بہت سے ممالک میں مسلسل بڑھتی معاشی عدم مساوات بچپن سے شروع ہونے کے بعد اعلیٰ تعلیم تک برقرار رہتی ہے جس کے دور رس اثرات ہوتے ہیں۔

Tweet URL

44 ترقی یافتہ اور ادارہ برائے معاشی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے رکن ممالک میں معاشی ناہمواری اور بچوں کی فلاح و بہبود کے باہمی تعلق پر یونیسف کی جائزہ رپورٹ کے مطابق، بیشتر ممالک میں آمدنی کا فرق اور بچوں میں غربت کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

یونیسف میں انوسینٹی مرکز کے ڈائریکٹر بو وکٹر نولینڈ کا کہنا ہے کہ معاشی ناہمواری بچوں کے سیکھنے، کھانے اور اپنی زندگی کے بارے میں احساسات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ زیادہ غیر مساوی معاشروں میں بچوں کی صحت کے مسائل بھی زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ ایسے ممالک کے بچوں موٹاپے کا خطرہ قدرے مساوی معاشروں کے بچوں کے مقابلے میں 1.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

ناقص غذا اور کھانے کی دستیابی میں بے قاعدگی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

عدم مساوات اور تعلیم سے محرومی

معاشی عدم مساوات سے تعلیمی صورتحال بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ زیادہ غیر مساوی معاشروں میں بچوں کے سکول چھوڑنے اور پڑھنے لکھنے یا ریاضی کی بنیادی مہارت حاصل نہ کر پانے کا امکان 65 فیصد تک ہوتا ہے جبکہ زیادہ مساوی ممالک میں یہ شرح 40 فیصد ہے۔

ایک ہی ملک میں امیر اور غریب بچوں کے درمیان فرق بھی نمایاں ہے۔ خوشحال خاندانوں میں 15 سال عمر کے اوسطاً 83 فیصد بچے ریاضی اور مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل کر لیتے ہیں جبکہ غریب خاندانوں کے بچوں میں یہ شرح صرف 42 فیصد رہ جاتی ہے۔

یونیسف نے حکومتوں پر زور دیا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، غریب علاقوں میں سرمایہ کاری کی جائے، سکولوں کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مہیا کیے جائیں اور بچوں کو سکولوں میں غذائیت سے بھرپور کھانے فراہم کیے جائیں۔

اعلیٰ تعلیم کے غیرمساوی مواقع

یونیسکو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 20 برس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ 2000 میں یہ تعداد تقریباً 10 کروڑ تھی جو 2024 میں 26 کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ گئی۔ تاہم، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس اضافے کے باوجود سب کو یکساں تعلیمی مواقع میسر نہیں آ سکے۔

مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں تقریباً 80 فیصد نوجوان اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیتے ہیں جبکہ جنوبی و مغربی ایشیا میں یہ شرح صرف 30 فیصد اور ذیلی صحارا افریقہ میں محض 9 فیصد ہے۔

ڈگری مکمل کرنے کی سست شرح

اگرچہ داخلوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر ڈگری مکمل کرنے والوں کی شرح اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکی۔ 2013 میں گریجوایشن کرنے والے طلبہ کی عالمی شرح 22 فیصد تھی جو 2024 میں صرف 27 فیصد تک ہی پہنچ سکی۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی نے کہا ہے، رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کی طلب بڑھ رہی ہے جس کا پائیدار معاشروں کی تعمیر میں ناگزیر کردار ہے۔

لیکن یہ اضافہ ہمیشہ مساوی مواقع میں تبدیل نہیں ہوتا۔ معیاری اور مشمولہ اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مالیاتی طریقہ ہائے کار اپنانا ہوں گے۔

© UNICEF/Annette Etge امیر ممالک میں معاشی عدم مساوات بچوں کی جسمانی صحت اور تعلیمی کارکردگی کے خراب ہونے کی وجہ بتائے جا رہے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی برتری

دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں خواتین کی تعداد مردوں سے بڑھ گئی ہے۔ آج ہر 100 مرد طلبہ کے مقابلے میں 114 خواتین زیر تعلیم ہیں۔ تاہم پی ایچ ڈی کی سطح پر اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اہم ذمہ داریاں انجام دینے والوں میں خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے۔

دنیا بھر کی حکومتیں اعلیٰ تعلیم پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا اوسطاً 0.8 فیصد خرچ کرتی ہیں۔

146 ممالک سے حاصل کردہ تازہ اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق، تعلیم کے اخراجات اور جغرافیائی فاصلے بھی عدم مساوات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ صرف ایک تہائی ممالک ایسے ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم سرکاری سطح پر قانوناً مفت فراہم کی جاتی ہے جبکہ بہت سے تعلیمی ادارے مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

تعلیمی نقل و حرکت میں اضافہ

بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی گزشتہ دو دہائیوں میں تین گنا سے زیادہ بڑھی ہے۔ یہ تعداد 2000 میں 21 لاکھ تھی جو 2023 میں تقریباً 73 لاکھ تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق، دنیا کے صرف تین فیصد طلبہ ہی اس بین الاقوامی تعلیمی نقل و حرکت سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں اور اس میں بھی مختلف خطوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، کینیڈا، روس اور فرانس اب بھی دنیا کے نصف بین الاقوامی طلبہ کی میزبانی کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اثرات

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث یونیورسٹیوں پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ اسی لیے تدریسی معیار برقرار رکھنے اور غریب طبقات کے لیے رسائی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانتبھی تدریس اور سیکھنے کے انداز بدل رہی ہیں مگر 2025 تک صرف ہر پانچ میں سے ایک یونیورسٹی کے پاس ہی اس مصنوعی ذہانتسے متعلق باقاعدہ پالیسی موجود تھی۔

دونوں رپورٹوں کو مجموعی طور پر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشی ناہمواری ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ غربت میں پرورش پانے والے بچوں کو تعلیم میں مشکلات، خراب صحت اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اگر تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ میں موثر سرمایہ کاری نہ کی گئی تو معاشی خلیج نسل در نسل گہری ہوتی چلی جائے گی۔