پاکستان: خیبر پختونخواہ صوبہ میں سکولوں پر حملے قابل تشویش، یونیسف

یو این بدھ 13 مئی 2026 22:00

پاکستان: خیبر پختونخواہ صوبہ میں سکولوں پر حملے قابل تشویش، یونیسف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے پاکستان میں سکولوں پر حملوں کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں جو ان سے سیکھنے، نشوونما پانے اور اپنی مکمل صلاحیتوں سے کام لینے کے مواقع چھین لیتے ہیں۔

یونیسف نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں گزشتہ روز لڑکیوں کے پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیے جانے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو حصول تعلیم کےمحفوظ، جامع اور بلا تعطل مواقع تک رسائی کاحق ہے۔ سکول بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں اور انہیں حملوں کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

سکول کو تباہ کرنے کا حالیہ واقعہ ٹانک کے علاقے کمدا بک میں پیش آیا جہاں ‏مبینہ شدت پسندوں نے لڑکیوں کے ایک سرکاری پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

(جاری ہے)

دھماکے سے سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ انتظامیہ کے مطابق جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سکول میں کوئی فرد موجود نہیں تھا۔

سکولوں پر 9واں حملہ

یہ رواں سال صوبہ خیبر پختونخوا میں کسی سکول پر ہونے والا نواں حملہ ہے۔ ایسے واقعات کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار سے زیادہ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور لوگ اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

اس سے پہلے جنوری 2026 میں خیبرپختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں ایک سکول پر ڈرون حملے کے نتیجے میں پرنسپل اور دو اساتذہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔

بچوں کا تعلیمی نقصان

پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا ہے کہ یہ تشویشناک صورتحال صوبے میں پہلے سے موجود تعلیمی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے جہاں 5 سے 16 سال تک عمر کے اندازاً 45 لاکھ لڑکے اور لڑکیاں یا ایک تہائی بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ لڑکیاں اس صورتحال سے کہیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ یونیسف ایسے واقعات سے متاثرہ بچوں، خاندانوں، اساتذہ اور مقامی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور طلبہ، اساتذہ اور تعلیم کو تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ طلبہ کسی خوف کے بغیر محفوظ ماحول میں حصول علم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

ادارے نے زور دیا ہے کہ بچوں کے تحفظ اور ان کے حق تعلیم کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا لازم ہے۔