کوکین ڈیلرانمول عرف پنکی گرفتاری کے وقت مبینہ طور پر نئی منشیات متعارف کرانے کا فارمولا مکمل کرچکی تھی

ملزمہ نئی منشیات کے فارمولے پر گزشتہ 3 ماہ سے کام کررہی تھی، ملزمہ خود بھی صرف اپنی تیار کردہ شراب اور منشیات استعمال کرتی تھی، ذرائع

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 13 مئی 2026 23:47

کوکین ڈیلرانمول عرف پنکی گرفتاری کے وقت مبینہ طور پر نئی منشیات متعارف ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 13 مئی 2026ء ) کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے گھناؤنے دھندے سے متعلق انکشاف کیا گیا ہے کہ پنکی کوئین گرفتاری کے وقت نئی منشیات لانچ کرنے کیلئے فارمولا مکمل کرچکی تھی۔ اے آروائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کوکین ڈیلرانمول عرف پنکی نئی منشیات لانچ کرنے کیلئے گزشتہ 3 ماہ سے کام کررہی تھی، جبکہ گرفتاری کے وقت نئی منشیات لانچ کرنے کیلئے فارمولا مکمل کرچکی تھی، پنکی کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ مبینہ طور پر گزشتہ تین ماہ سے نئی منشیات متعارف کرانے کی تیاری میں مصروف تھی۔

لیکن گرفتاری کے وقت نئی منشیات کا فارمولا مکمل کرچکی تھی۔ ملزمہ پنکی سے متعلق یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمہ صرف اپنی تیار کردہ مخصوص شراب اور منشیات استعمال کرتی تھی۔

(جاری ہے)

وہ اپنے تیار کردہ برانڈ کو ترجیح دیتی تھی اور اپنے ہاتھ کے تیار کردہ منشیات اور شراب کی شوقین ہے۔ مزید برآں نیوزایجنسی کے مطابق سٹی کورٹ کراچی نے منشیات فروش انمول عرف پنکی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے فیصلے کے خلاف پراسیکیوشن کی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمہ کو 13 مئی سے 15 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ عدالت نے تھانہ گارڈن، بغدادی اور درخشاں میں درج چار مقدمات میں تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔عدالت نے سپرنٹنڈنٹ وومن جیل کو حکم دیا کہ ملزمہ کی کسٹڈی تفتیشی افسر سعید احمد کے حوالے کی جائے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد پیش رفت رپورٹ متعلقہ عدالت میں پیش کی جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید ریمانڈ کی استدعا بھی کی جاسکتی ہے۔تفتیشی افسر نے مقف اختیار کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ مسترد کرنے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔ ان کے مطابق ملزمہ پنکی نارکوٹکس گینگ کی سرغنہ ہے اور منشیات کی سپلائی چین سے متعلق تحقیقات کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری تھا۔ تفتیشی افسر نے یہ بھی بتایا کہ ملزمہ کے خلاف بغدادی تھانے میں قتل کا مقدمہ بھی درج ہے، جس کی تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔