کراچی سے گرفتار کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے منظم منشیات نیٹ ورک بارے تہلکہ خیز انکشافات

انمول سے منشیات خریدنے والوں کی تعداد 800سے ایک ہزار تک ،طلبہ ، نوجوان، کاروباری ،بااثر شخصیات شامل ہیں‘ ذرائع

بدھ 13 مئی 2026 21:40

کراچی سے گرفتار کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے منظم منشیات نیٹ ورک بارے ..
لاہور/کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 مئی2026ء) کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ کوکین کوئین انمول عرف پنکی سے متعلق تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق 1995ء میں پیدا ہونے والی ملزمہ کراچی کے جہانگیر روڈ، ابوالحسن اصفہانی روڈ اور ڈیفنس کے علاقوں میں رہائش پذیر رہی اور کم عمری میں ہی منشیات کے دھندے سے وابستہ ہوگئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ملزمہ نے 14سے 15برس کی عمر میں منشیات فروشی شروع کی اور گزشتہ تقریباً 16برس سے اس مکروہ کاروبار میں ملوث رہی۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ 10سے 15ہزار روپے فی گرام میں کوکین خرید کر اس میں مختلف کیمیکل ملا کر 40سے 45 ہزار روپے فی گرام تک فروخت کرتی ۔حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کوکین تیار کرنے اور اسے کیمیکل کے ذریعے بڑی مقدار میں تبدیل کرنے میں مہارت رکھتی تھی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق ملزمہ 200سے 300گرام کوکین کو ایک کلوگرام تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتی تھی اور ایک کوکین انڈہ آٹھ لاکھ روپے تک میں فروخت کیا جاتا تھا۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ نے کراچی میں منشیات تیار کرنے کے لیے باقاعدہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی جہاں سے کیٹامائن، ایفیڈرین، میتھ اور لیٹوکین سمیت دیگر نشہ آور مواد بھی برآمد ہوا۔ چھاپے کے دوران اعلی معیار کی ہینڈ میڈ ریڈ وائن کی متعدد بوتلیں اور 15سے زائد گولڈن کیپ کوکین انڈے بھی قبضے میں لیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی نہ صرف کراچی بلکہ لاہور سے بھی اپنے نیٹ ورک کو آپریٹ کرتی رہی۔ کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن اور ڈیفنس میں اس کے گاہکوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائیڈرز سمیت چار خصوصی رائیڈرز رکھے گئے تھے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے۔تحقیقات کے مطابق ملزمہ کے خریداروں میں طلبا ء و طالبات، نوجوان، کاروباری شخصیات اور بااثر افراد بھی شامل تھے جبکہ روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی منشیات فروخت کی جاتی تھی۔

ذرائع کے مطابق انمول سے منشیات خریدنے والوں کی تعداد 800سے ایک ہزار تک بتائی جا رہی ہے۔تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ غیر ملکی باشندوں سے کوکین خریدتی تھی جو منشیات جسم کے اندر چھپا کر پاکستان اسمگل کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ کی پہلے پنجاب پولیس کے ایک اہلکار سے شادی ہوئی تھی جو بعد میں طلاق پر ختم ہوگئی جبکہ مبینہ طور پر سابق شوہر اس کاروبار میں اس کی معاونت بھی کرتا رہا۔

بعد ازاں ملزمہ نے انصر نامی شخص سے شادی کی جو ملائیشیا ء میں مقیم ہے۔ ملزمہ کا دعوی ہے کہ موجودہ منشیات کا کاروبار اس کے شوہر انصر کا ہے۔حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف مختلف تھانوں میں آٹھ مقدمات درج ہیں جن میں قتل اور منشیات فروشی کے مقدمات شامل ہیں۔ بغدادی، گارڈن، درخشاں اور گذری تھانوں میں مقدمات درج ہیں جبکہ لاہور میں بھی اس کے خلاف ایک مقدمہ موجود ہے۔ذرائع کے مطابق ملزمہ کے بینک اکائونٹس، جائیدادوں، سہولت کاروں اور رشتہ داروں کے نام پر خریدی گئی پراپرٹی کی بھی چھان بین جاری ہے۔