میرے بیٹے کے باہر جانے کی وجہ موجودہ حکومت اور ادارے ہیں

ان کے مظالم کی وجہ سے میرا بیٹا چلا گیا، میں اپنے جوان بیٹے سے محروم ہو گیا، ان لوگوں کو تو مجھ سے ہمدردی کرنی چاہیئے، پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی

muhammad ali محمد علی بدھ 13 مئی 2026 23:31

میرے بیٹے کے باہر جانے کی وجہ موجودہ حکومت اور ادارے ہیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) اقبال آفریدی نے موجودہ حکومت اور اداروں کو ذمےدارقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مظالم کی وجہ سے میرا بیٹا چلا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے بیرون ملک سیاسی پناہ لینے کے معاملے پرایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ان کے مظالم کی وجہ سے میرا بیٹا چلا گیا، میں اپنے جوان بیٹے سے محروم ہو گیا، ان لوگوں کو تو مجھ سے ہمدردی کرنی چاہیئے، اگر ایک بیٹا ساری عمر کیلئے اپنے باپ سے جدا ہو جائے تو مجھے بتائیں کہ اس کا کتنا درد ہوتا ہے؟ اس کی وجہ بھی موجودہ حکومت اور ادارے ہیں جنہوں نے دباو ڈالا۔

"
اس سے قبل بھی ایک بیان میں انہوں نے نا صرف اپنے بیٹے کے اقدام کا دفاع کیا بلکہ خود بھی ملک چھوڑنے کی خواہش ظاہر کردی۔

(جاری ہے)

پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے اٹلی میں سیاسی پناہ لینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر ملکی حالات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں نوجوانوں کے پاس ملک چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، اگر میرے بیٹے نے اسائلم لیا ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں، اس سے پہلے بھی ہزاروں بچے ملک سے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ملک میں آئے روز دہشت گردی ہوگی، بم دھماکے ہوں گے، بد امنی ہوگی، تو یہ بچے آخر کہاں جائیں گے؟ اس ملک میں نہ امن ہے اور نہ ہی سیاسی استحکام ہے، یہ اب رہنے کے قابل نہیں رہا، ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں، ایسے میں مستقبل تاریک نظر آتا ہے، اگر مجھے موقع ملا اور میں یہ سمجھ گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کو رہا نہیں کیا جانا، تو پھر یہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر مملکت برائے خارجہ امور طلال چوہدری نے انکشاف کیا تھا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے سرکاری ’بلیو پاسپورٹ‘ کا غلط استعمال کرکے اٹلی میں پناہ لی ہے، جس سے ملک کی بدنامی ہوئی، جب کہ اقبال آفریدی کے حالیہ بیان نے اس معاملے کی کافی حد تک تصدیق کردی ہے، اور اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ کیا عوامی نمائندوں کا ملک کے بارے میں ایسا مؤقف اختیار کرنا درست ہے یا نہیں۔