وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیر صدارت اجلاس ، چینی وفد کے ساتھ لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون کے فروغ، پاکستانی بھینسوں کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے پر تبادلۂ خیال

جمعرات 14 مئی 2026 12:26

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق   کی زیر صدارت اجلاس  ، چینی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویرحسین کی زیر صدارت اجلاس میں چینی وفد کے ساتھ لائیو اسٹاک کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، بھینسوں کے ایمبریو کی برآمد، جینیاتی وسائل کی ترقی اور پاکستان کی اعلیٰ معیار کی دودھ دینے والی نسلوں کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران، اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ (AQD) کے نمائندگان، تکنیکی ماہرین اور لائیو اسٹاک بریڈنگ و بائیوٹیکنالوجی سے وابستہ چینی کمپنیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پاکستان سے چین بھینسوں کے ایمبریو کی برآمد کے وسیع امکانات اور لائیو اسٹاک جینیات، دودھ کی پیداوار میں اضافے اور جدید بریڈنگ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

(جاری ہے)

چینی وفد نے پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ بھینسوں کی نسلوں کو سراہتے ہوئے جانوروں کی جینیات اور ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔شرکانے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دنیا کی بہترین دودھ دینے والی بھینسوں کی نسلوں کا حامل ہے، خصوصاً نیلی راوی نسل اپنی زیادہ دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت اور اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کی وجہ سے عالمی سطح پر ممتاز مقام رکھتی ہے۔

اجلاس میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ اعلیٰ معیار کی ڈیری جینیات کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کے لیے برآمدات اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا کر رہا ہے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ برآمدات میں اضافے اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ معیار کی دودھ دینے والی نسلیں خصوصاً چین جیسے دوست ممالک کے ساتھ زرعی تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سینئر ڈائریکٹر انچارج (اینیمل سائنسز ڈویژن) ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے اجلاس کو حیاتیاتی اور جینیاتی مواد کی برآمد کے لیے ایک جامع اور بین الاقوامی معیار کے مطابق فریم ورک کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیمتی لائیو اسٹاک جینیات، بالخصوص اعلیٰ نسل کی بھینسیں، ایک قیمتی اثاثہ ہیں جس کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

ڈاکٹر اندرابی نے بتایا کہ مجوزہ میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ (MTA) کا مقصد پاکستان میں جینیاتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانا ہے۔ڈاکٹر اندرابی نے مزید بتایا کہ تیار کیا جانے والا فریم ورک پاکستانی اداروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان لائیو اسٹاک بائیوٹیکنالوجی اور ایمبریو ٹرانسفر پروگراموں میں مستقبل کے تعاون کو مزید آسان اور منظم بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد برآمدات کے تسلسل، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دینا ہے جبکہ پاکستان کے مقامی جینیاتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا بھی یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں شریک تکنیکی ماہرین نے کہا کہ عالمی لائیو اسٹاک صنعت تیزی سے جدید بریڈنگ ٹیکنالوجیز، ایمبریو ٹرانسفر اور جینیاتی بہتری کے پروگراموں کی جانب بڑھ رہی ہے تاکہ دودھ کی پیداوار اور غذائی تحفظ کو بہتر بنایا جا سکے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ نیلی راوی اور ساہیوال جیسی اعلیٰ نسلوں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کی ڈیری جینیات فراہم کرنے والا اہم ملک بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین نے مزید کہا کہ زیادہ دودھ دینے والی نسلوں کی عالمی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً ایسے ممالک میں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق بہتر کارکردگی دکھانے والے مویشیوں کی تلاش میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ لائیو اسٹاک جینیات اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون پاکستان کے لیے سائنسی اشتراک، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں اضافے کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔چینی وفد نے پاکستان کی جانب سے لائیو اسٹاک جینیاتی تعاون کے لیے شفاف اور منظم نظام کی تشکیل کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور سائنسی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

اجلاس میں پاکستان کی لائیو اسٹاک جینیات کی تاریخی اہمیت اور عالمی طلب کو بھی اجاگر کیا گیا، جن میں عالمی شہرت یافتہ ساہیوال نسل کی گائے بھی شامل ہے جس نے دنیا کے مختلف ممالک میں ڈیری ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، سائنسی بریڈنگ ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جائے گا اور لائیو اسٹاک مصنوعات و جینیاتی مواد کی برآمدات کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ لائیو اسٹاک اور ڈیری ترقی کے شعبوں میں مضبوط تعاون پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہوگا اور کسانوں، بریڈرز اور برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔وفاقی وزیر نے چینی وفد کو یقین دلایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے میں جدت، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کی بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔