صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ کی بھوک ہڑتال کی دھمکی

حکومت نے اب تک کوئی ذمہ داری ادا نہیں کی، اعلی سطح کا کمیشن بنایا جائے، فیملیز کا بازیابی کیلئے احتجاج مظاہرہ

جمعرات 14 مئی 2026 05:00

صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ کی بھوک ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) صومالیہ میں 23 روز سے قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بحری جہاز پر سوار پاکستانیوں کے اہل خانہ نے پیاروں کی بازیابی کیلئے مظاہرہ کیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔آنر 25جہاز پر یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے اہل خانہ، بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان کیماڑی میں قائم نیٹی جیٹی پل پر جمع ہوئے اور کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے اور نہ ہی کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔

بحری جہاز پر یرغمال بنائے گئے سید یوسف حسین کے بھانجے طالب رضا نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے کیونکہ اس نے اب تک کوئی ذمہ داری ادا نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ یرغمال پاکستانیوں کی فیملیز دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہیں، ہم اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کیلئے کبھی پریس کانفرنس کرتے ہیں تو کبھی مظاہرے کررہے ہیں مگر حکومت ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔

(جاری ہے)

طالب نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اعلی سطح کا کمیشن تشکیل دے کر فوکل پرسن تعینات کرے جو اہل خانہ سے رابطے میں رہے اور ریاست کی طرف سے داد رسی کرے اور یقین دہانی کرائے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو پھر گھر کے بچے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل صومالی قزاقوں نے سماجی رہنما انصار برنی سے رابطہ کر کے واضح کیا تھا کہ ہم صرف حکومتی نمائندے سے بات کریں گے۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی معاذ محبوب نے پاکستانیوں کی بازیابی کیلیے قرارداد جمع کرائی جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیلڈ مارشل سے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔