طالبات کی تعلیم ان کے روشن مستقبل ،معاشی خودمختاری کے لیے بھی ناگزیر ہے‘ جہانگیر ترین

جمعرات 14 مئی 2026 22:43

طالبات کی تعلیم ان کے روشن مستقبل ،معاشی خودمختاری کے لیے بھی ناگزیر ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) جہانگیر خان ترین کی جانب سے گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین، کوپر روڈ لاہور میں جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا گیا۔ یہ کمپیوٹر لیب ترین ایجوکیشن فائونڈیشن کے تعاون سے قائم کی گئی ہے جس کا مقصد طالبات کو جدید آئی ٹی تعلیم اور ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

تقریب میں ڈی پی آئی کالجز پنجاب انصر اظہر، گروپ ڈائریکٹر فنانس جے ڈی ڈبلیو محمد رفیق، پرنسپل کالج ڈاکٹر فوزیہ ناز، چیف ایگزیکٹو آفیسر ترین ایجوکیشن فانڈیشن اکبر خان اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔کالج میں پانچ ہزار سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں جبکہ 187سے زائد اساتذہ تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تقریباً 12ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی اس جدید کمپیوٹر لیب میں طالبات کو جدید آئی ٹی سہولیات اور ڈیجیٹل لرننگ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

ترین ایجوکیشن فائونڈیشن کی جانب سے طلبا و طالبات تک جدید آئی ٹی تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کے لیے لودھراں، خانیوال، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں متعدد تعلیمی منصوبوں پر کام جاری ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ جب میں نے بچیوں کی کمپیوٹر لیب میں کام کرتے ہوئے دلچسپی اور خوشی دیکھی تو یہ میرے لیے انتہائی مسرت کا باعث تھا۔

کمپیوٹرائزیشن آج کے دور میں بچیوں کا بنیادی حق ہے،طالبات کی تعلیم نہ صرف ان کے روشن مستقبل بلکہ ان کی معاشی خودمختاری کے لیے بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی زندگی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جو کام شروع کریں اسے بہترین انداز میں مکمل کریں، مسلسل محنت کریں اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اعلی مقام حاصل کریں۔

کیونکہ معاشرے کی مجموعی ترقی کا انحصار تعلیم اور معاشی بہتری پر ہوتا ہے۔جہانگیر خان ترین نے مزید کہا کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ اگر بیرونِ ملک جامعات میں داخلہ حاصل کرتے ہیں تو ترین ایجوکیشن فائونڈیشن ان کی معاونت، رہنمائی اور ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی تاکہ باصلاحیت نوجوان عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔

اپنے خطاب کے دوران جہانگیر خان ترین نے اپنے آبائی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آبا ئواجداد نے بلوچستان سے ہجرت کی تھی اور ملتان میں رہائش پذیر ہوئے۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ جہاں سے ہمارے بزرگوں نے سفر شروع کیا وہاں بھی خدمت کا کوئی کام کیا جائے۔ بدقسمتی سے وہاں آج بھی بنیادی تعلیمی سہولیات حتی کہ کمروں جیسی بنیادی ضروریات کا بھی فقدان ہے۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان میں ایک خصوصی تعلیمی بلڈنگ تعمیر کی جائے گی تاکہ بچے بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں اور جدید کمپیوٹر لیب جیسی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔