پی ایم اے کا صحت کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار

ڈبلیو ایچ او رپورٹ 2026 کے بعد پاکستان میں صحت بحران، مالی بدانتظامی اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم ای)نے عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) جانب سے جاری کردہ ورلڈ ہیلتھ اسٹیٹسٹکس 2026 رپورٹ کے بعد پاکستان کے صحت کے نظام پر شدید تشویش اور سخت تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ایک منظم صحت بحران کے ساتھ ساتھ مالی بدانتظامی، انتظامی کرپشن اور نظامی ناکامی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پی ایم اے کے مطابق رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ نہ صرف خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے بلکہ بنیادی اشاریوں میں خطرناک حد تک زوال پذیر ہو چکا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سری لنکا صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا 4.1 فیصد خرچ کر کے خطے میں نمایاں ہے، جہاں اوسط عمر 77.2 سال اور بچوں کی شرح اموات 6.2 فی ہزار پیدائش ہے۔

(جاری ہے)

بھارت اور بنگلہ دیش بھی بالترتیب 3.1 فیصد اور 2.6 فیصد صحت پر خرچ کر رہے ہیں جبکہ ان ممالک میں اوسط عمر 71 سال سے زائد اور بچوں کی شرح اموات 26 سے کم ہے۔

اس کے برعکس پاکستان صحت کے شعبے پر صرف 0.9 فیصد جی ڈی پی خرچ کر رہا ہے، جس کے باعث اوسط عمر 68 سال پر جمود کا شکار ہے جبکہ بچوں کی شرح اموات بڑھ کر 50.1 فی ہزار پیدائش تک پہنچ چکی ہے۔پی ایم اے نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں کی بقا کا خطرہ خطے میں سب سے زیادہ ہے اور ایک پاکستانی بچہ اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے موت کے خطرے کے لحاظ سے سری لنکا کے بچے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ خطرے میں ہے، جو وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی اور بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔

تنظیم نے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مالی بحران پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ملنے والی گرانٹ بیسڈ امداد میں 59 فیصد کمی ہو چکی ہے جبکہ صحت کے شعبے میں رعایتی قرضوں کا حصہ 96 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔پی ایم اے کے مطابق اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان کرپشن اور کمیشن کلچر کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ طبی آلات کی خریداری میں اربوں روپے کی بدعنوانی کی جا رہی ہے، جس کے باعث ناکارہ اور ناقص مشینری اسپتالوں میں پڑی رہتی ہے جبکہ مریض بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جانیں گنوا رہے ہیں۔

پی ایم اے نے کہا کہ صحت کے فنڈز میں بدعنوانی اور کمیشن مافیا نے نظام کو مفلوج کر دیا ہے اور مریضوں کے لیے مختص وسائل غیر شفاف طریقے سے ضائع ہو رہے ہیں۔تنظیم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سخت الفاظ میں ہنگامی اقدامات کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر قومی صحت ایمرجنسی نافذ کی جائے، غیر ضروری اخراجات میں کمی کر کے آلودہ پانی اور ادویات کی قلت جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔

تنظیم کے مطابق آلودہ پانی سالانہ اموات کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ صحت کے شعبے کے لیے مختص 0.9 فیصد جی ڈی پی انتہائی ناکافی ہے اور اسے فوری طور پر بڑھایا جائے۔پی ایم اے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صحت کے ہر اخراجات کی نگرانی کے لیے ایک خودمختار اور شفاف ادارہ قائم کیا جائے تاکہ کرپشن اور کمیشن کلچر کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

تنظیم نے صاف پانی کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس پر قابو پانا ناگزیر ہے۔مزید کہا گیا کہ ادویات کی بلیک مارکیٹ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور 80 نایاب ادویات کی فوری دستیابی یقینی بنائی جائے۔پی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ مالی سال تک حکومت نے اصلاحات پر عملی اقدامات نہ کیے تو طبی برادری عوامی تحفظ کے لیے احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔