پاکستان امریکا اور برازیل کوٹائرز برآمد کرنے والے 10بڑے ممالک میں شامل، سروس لانگ مارچ کا برآمدات میں نمایاں کردار

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) پاکستان امریکا اور برازیل سمیت عالمی منڈیوں میں ٹرک اور بس ریڈیل (TBR) ٹائرز برآمد کرنے والے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہوگیا ہے، جو ملک کے صنعتی اور برآمدی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔انڈسٹری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستانی ٹائرز کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور امریکا و برازیل پاکستانی ٹائرز کی اہم برآمدی منڈیوں کے طور پر ابھرے ہیں۔

اس پیش رفت میں سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ (SLM) کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جو پاکستان کی سب سے بڑی ٹائر مینوفیکچرنگ اور برآمدی کمپنی بن چکی ہے۔ کمپنی نے 2022 میں آپریشنز کے آغاز کے بعد مختصر عرصے میں اپنی عالمی موجودگی کو تیزی سے وسعت دی ہے اور امریکا، برازیل، جنوبی افریقہ اور مصر سمیت مختلف عالمی منڈیوں میں برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

(جاری ہے)

سروس لانگ مارچ نے جدید چینی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے کم پیداواری لاگت کے ذریعے عالمی مارکیٹس میں مسابقتی برتری حاصل کی ہے۔ کمپنی اس وقت اپنی ٹرک اور بس ریڈیل ٹائرز کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد برآمد کر رہی ہے۔مقامی سطح پر بھی پاکستان کی ٹائر مارکیٹ نمایاں وسعت رکھتی ہے۔ ملک میں ٹرک اور بس ٹائرز کی سالانہ طلب تقریباً 17 لاکھ یونٹس جبکہ مسافر گاڑیوں کے ٹائرز کی طلب تقریباً 70 لاکھ یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔

ماضی میں اس طلب کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا، تاہم اب مقامی مینوفیکچرنگ تیزی سے درآمدی ٹائرز کی جگہ لے رہی ہے۔سروس لانگ مارچ اس وقت سالانہ تقریباً 16 لاکھ TBR ٹائرز تیار کر رہی ہے جبکہ کمپنی نے جولائی 2026 تک پیداواری صلاحیت 20 لاکھ اور جون 2027 تک 22 لاکھ ٹائرز تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی اس وقت پاکستان کے TBR ٹائرز سیگمنٹ میں تقریباً 58 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہے، جس کے باعث یہ درآمدی متبادل اور زرمبادلہ کی بچت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انڈسٹری ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی برآمدات، پیداواری توسیع اور درآمدی متبادل کی حکمتِ عملی پاکستان کے ٹائر سیکٹر کو بتدریج زرمبادلہ کمانے والے ایک اہم صنعتی شعبے میں تبدیل کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافر گاڑیوں کے ٹائرز کی مقامی پیداوار میں متوقع توسیع اور کمرشل ٹائرز کی برآمدات میں مسلسل اضافے کے ساتھ پاکستان کی ٹائر انڈسٹری عالمی مارکیٹس میں مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہے، جو برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔