وفاقی آئینی عدالت، شوگر ملز کیس میں اہم حکم امتناع، پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت

جمعرات 14 مئی 2026 19:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) وفاقی آ ئینی عدالت میں حسیب وقاص شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی جس میں شوگر ملز کی جانب سے کسانوں اور بینک واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق اہم نکات زیرِ بحث آئے۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے عبداللہ شوگر ملز کی جائیدادیں قرق نہ کرنے سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ملزم کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے شوگر ملز کو اپنی جائیدادیں تاحکم ثانی فروخت کرنے سے بھی روک دیا۔کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حسیب وقاص شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز نے کسانوں کو واجبات ادا نہیں کئے جبکہ نیشنل بینک آف پاکستان سے بھی قرض حاصل کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ ’’اس سب کا تعلق دور تک ہوگا‘‘اور مزید کہا کہ فریقین کے دلائل کو تفصیل سے سنا جائے گا۔ریکارڈ کے مطابق کین کمشنر نے عدم ادائیگی پر حسیب وقاص شوگر ملز کے ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی جائیدادیں قرق کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اسی حکم کے تحت عبداللہ شوگر ملز کی پراپرٹیز بھی قرق کی گئی تھیں۔بعد ازاں عبداللہ شوگر ملز نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جہاں ہائی کورٹ نے قرقی کا حکم کالعدم قرار دیا تھا۔ پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جو عدالتی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کے لئے وفاقی آ ئینی عدالت کو منتقل کیا گیا۔