سرینگر،بھارتی انتظامیہ نے عید گاہ مزا ر شہدا سیل ، میر واعظ کو گھر میں نظر بند کر دیا،بھارت نے کشمیریوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں

جمعرات 21 مئی 2026 15:40

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے جمعرات کو مزار شہید عید گاہ سرینگر کو سیل کردیا نیز کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی انتظامیہ نے گزشتہ شام کو نہ صرف مزار شہدا کو سیل کر کے اس کے اطراف میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی بلکہ میر واعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا جنہوں نے وہاں منعقدہ تقریب کی صدارت کرنا تھی ۔

اس جابرانہ کارروائی کا مقصد معروف آزادی پسند رہنما میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں پر مزار شہدا پر ہونے والی دعائیہ تقریب کو روکنا ہے۔

(جاری ہے)

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ انتظامیہ نے لوگوں کو شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کے لیے عید گاہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا۔ پابندیوں سے علاقے میں شدید غم وغصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔

نامعلوم مسلح افراد نے میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، بھارتی فوجیوں نے اسی روز سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے کے جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سے زائد سوگواران کو بھی شہید کر دیا تھا۔ 21 مئی 2002 کو نامعلوم حملہ آوروں نے خواجہ عبدالغنی لون کو اس وقت فائرنگ کرکے شہید کر دیا جب وہ سرینگر کے شہدا قبرستان میں میر واعظ مولوی محمد فاروق کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔

یا د رہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کو نما ز جمعہ اور عید کی نماز سے روکا جاتا ہے ، سرینگر کی تاریخی جامع مسجد بھی اکثر و بیشتر سیل کی جاتی ہے، علاقے میں محرم الحرام کے جلوسوں پر بھی قدغنیں عائد کی جاتی ہیں۔